ایک اور موقع
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۴۴
(re-discovery of Islam in a changing world)—اس دریافت کے دو خاص پہلو ہیں۔ ایک یہ ہے کہ دورِ جدید (modern age) دورِ تعقل (age of reason) تھا۔ نئے حالات کے اعتبار سے، اسلام بظاہر لوگوں کو دورِ جدید میں بے جوڑ (misfit) دکھائی دیتا تھا۔ الرسالہ مشن نے کامیابی کے ساتھ یہ کیا اسلام کو جدید ذہن (modern mind) کے لیے عقلی طور پر قابل فہم (rationally understandable) بنایا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ الرسالہ مشن نے دلائل کے ذریعے بتایا کہ دورِ جدید میں مسلمانوں کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے۔
الرسالہ مشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، احیاءِ اسلام (revival of Islam) کا مشن ہے۔ احیاء اسلام ایک معروف اصطلاح ہے، لیکن لوگ اس اصطلاح کے صرف روایتی مفہوم کو جانتے تھے۔ الرسالہ مشن نے اس اصطلاح کو اس کے نئے مفہوم کے ساتھ زندہ کیا۔ اس اعتبار سے، الرسالہ مشن ایک تخلیقی مشن (creative mission) ہے۔ وہ اجتہادی فکر پر مبنی ہے، نہ کہ تقلیدی فکر پر۔ 2- یہ بات درست نہیں۔ الرسالہ مشن میں جو لوگ شامل ہیں، وہ ورکر یا ایکٹوسٹ نہیں ہیں، بلکہ وہ سب کے سب تعلیم یافتہ لوگ ہیں، الرسالہ مشن تعلیم یافتہ لوگوں کا مشن ہے۔ اس مشن میں جو لوگ شریک ہیں، وہ لٹریچر پڑھ کر اور شعوری فیصلے کے تحت اس میں شریک ہوئے ہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں، یہ ٹیم تعلیم یافتہ لوگوں کی ٹیم ہے۔
جہاں تک مذکورہ قسم کے اکیڈمیشین (academician) کا تعلق ہے، تو اکیڈمیشین لوگ کبھی کسی مشن سے نہیں جڑتے۔ اس کا سبب اکیڈمک کلچر اور مشن کلچر کا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ طبیعی سائنس (physical science) کے معاملے میں ہمیشہ ایک واحد رائے پر پہنچنا ممکن ہوتا ہے، لیکن سماجی علوم یا انسانی علوم (humanities) میں ایسا نہیں ہوتا کہ صرف ایک رائے کا انتخاب ممکن ہو۔ چوں کہ سماجی علوم یا انسانی علوم میں ہمیشہ استنباط (inference) کا امکان ہوتا ہے، اس لیے رائیں مختلف ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں انسانی علوم کے معاملے میں کسی ایک رائے پر اصرار کرنے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ آدمی تعصب کا شکار ہو گیا ہے۔ اسی تعصب کے الزام سے بچنے کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues