Al-Risala · March 2014 · page 45

ایک اور موقع

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۴۵

لیے اکیڈمیشن یہ کرتے ہیں کہ وہ کبھی قطعیت کی زبان استعمال نہیں کرتے ۔ وہ اپنے بیان میں ہمیشہ اس طرح کے الفاظ شامل کرتے ہیں :

Perhaps, Probably, It appears, My be I am wrong, etc. اپنی اسی خاص نفسیات کی بنا پر کوئی اکیڈمیشن کبھی کسی مشن کا حصہ نہیں بنتا۔ مشن کلچر صرف وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو اپنے ترقی یافتہ شعور کی بنا پر کسی ایک نظریے کو بطور صداقت اختیار کر سکیں۔ اکیڈمیشن کا ذہن ایک ایسا ذہن ہوتا ہے جو صاحب مشن کے ذہن سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ اسی اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اکیڈمیشن کسی مشن کا ساتھ نہیں دیتا۔ اکیڈمک کلچر کے مزاج کے مطابق ، اکیڈمیشن کا جو اصول ہے، اس کو ویلیو نیوٹرلٹی (value neutrality) کہا جاتا ہے۔ معیاری اکیڈمیشن وہ ہے جو ویلیو ججمینٹ (value judgement) نہ دے، بلکہ وہ ہمیشہ ویلیو نیوٹرل (value neutral) بنا رہے، وہ کسی ایک رائے کو درست نہ سمجھے، بلکہ وہ رایوں کے بارے میں غیر جانب دار (impartial) بنا رہے۔

کسی مشن کی کارکردگی کو جج کرنے کے لیے یہ کوئی صحیح معیار نہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ اکیڈمیشن اس میں تیار ہو رہے ہیں یا نہیں ۔ جب تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی کسی اکیڈمیشن نے کسی مشن کا ساتھ نہیں دیا تو کسی مشن پر تبصرہ کرنے کے لیے اس معیار کو استعمال کرنا اپنے آپ میں درست نہیں۔ اس قسم کی روش صاحب تبصرہ کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہے، نہ کہ اس کی انصاف پسندی کا ثبوت۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو کارل مارکس کی زندگی میں ملتی ہے۔ کارل مارکس ایک سوشلسٹ مفکر تھا۔ وہ سوسائٹی میں ایک تبدیلی لانا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے اُس نے 1867 میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی جس کا نام داس کیپٹل (Das Kapital) تھا۔ یہ کتاب بظاہر اکیڈمک انداز میں لکھی گئی تھی ، مگر کارل مارکس کو اس کتاب کی بنیاد پر کوئی ساتھ دینے والا نہیں ملا۔ اس کی دوسری کتاب وہ تھی جو کمیونسٹ مینی فیسٹو (Communist Manifesto) کے نام سے مشہور ہے۔ کارل مارکس کو اپنے مشن کے لیے جو ساتھی ملے ، وہ زیادہ تر

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page