مسلم سیرت نگار
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۲۰
مسلم سیرت نگار
مولاناسید سلیمان ندوی (وفات: 1953) مشہور عالم اور مصنف تھے۔ ان کے صاحب زادے ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے دارالعلوم ندوۃ العلما (لکھنؤ) میں اپنے والد کے بارے میں ایک تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ مولاناسید سلیمان ندوی نے اپنے مرشد مولانا اشرف علی تھانوی کے نام ایک خط میں اپنے بارے میں لکھا تھا کہ: ”یورپ کے مذہبی وعلمی حملوں کے مقابلے میں، اسلام کی خدمت کا ولولہ ہے، اور اب تک پچیس برس کا زمانہ انھیں مشاغل میں گزرا‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، فروری 2010، صفحہ 37)
ان الفاظ میں جس ذہن کا بیان ہے، وہی ذہن موجودہ زمانے کے تمام مسلم علما کے اندر پایا جاتا ہے، عرب علما کے اندر بھی اور غیر علما کے اندر بھی۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانے کے مسلم علما نے مغرب کو صرف اس حیثیت سے جانا کہ وہ اسلام کے خلاف حملوں کا مرتکب ہے۔ حالاں کہ یہ تمام ترخود مسلم علما کی اپنی منفی سوچ کا نتیجہ تھا، وہ مغرب کی اسلام دشمنی کا نتیجہ نہ تھا۔
مغربی قوتوں کی نسبت سے دوسرے دو اہم پہلو تھے جن سے مسلم علما بالکل بے خبر رہے۔ ایک یہ کہ مغربی لوگ بالفرض اگر اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں مخالفانہ جذبات رکھتے ہوں، تب بھی ان کی حیثیت مدعو کی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربی قوموں کے مخالفانہ رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کو مثبت انداز میں اسلام کی دعوت پہنچائیں، اور انسانی خیرخواہی کے جذبے سے ان کی اصلاح کے طالب ہوں۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے علما نے مغربی اقوام کو صرف نو آبادیاتی اقوام کے ہم معنی سمجھ لیا، حالاں کہ ان اقوام کی ایک اور حیثیت تھی جو اس سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی، وہ یہ کہ ان مغربی اقوام نے تاریخ میں پہلی بار اُس علم کو پیدا کیا جس کو جدید سائنس کہا جاتا ہے۔ جدید طبیعی سائنس اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز تھی جس کو قرآن میں آفاق و انفس (53:41) کی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues