مسلم سیرت نگار
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۲۱
آیات کا ظہور بتایا گیا ہے۔ یہ آیتیں (signs) اسلامی دعوت کے حق میں عظیم تائید کے ہم معنی تھیں، مگر علما نے ان آیتوں (نشانیوں) کو نہ تو سمجھا اور نہ ان کو اسلامی دعوت کے حق میں استعمال کیا۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں مسلم سیرت نگاروں نے کثرت سے سیرت پر کتابیں لکھیں ہیں۔ یہ کتابیں مختلف زبانوں میں شائع ہوئی ہیں۔ لیکن ان کا جائزہ لیجیے تو غالباً سیرت کے موضوع پر کوئی ایک قابلِ ذکر کتاب ایسی نہیں ہے جس میں پیغمبر کی داعیانہ حیثیت کو بنیادی حیثیت سے نمایاں کیا گیا ہو۔ جس میں رسول اللہ کے اسوۂ دعوت کو اصل حیثیت دے کر بیان کیا گیا ہو۔ یہ ایک ایسی کمی ہے جو موجودہ زمانے کے تمام مسلم سیرت نگاروں کے یہاں پائی جاتی ہے۔ اس کا سبب بظاہر یہ ہے کہ ان سیرت نگاروں نے سیرتِ رسول کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے نہیں کیا کہ وہ آپ کے اصل داعیانہ منصب کو اجاگر کریں۔
اسی معاملے کو میں نے اپنے ایک تجربے سے سمجھا ہے۔ میں 1964-66 کے دوران لکھنؤ میں تھا۔ میرا معمول تھا کہ میں روزانہ شام کو آچاریہ نریندر دیو لائبریری جاتا جو وہاں گومتی ندی کے کنارے واقع تھی۔ اس لائبریری کی اوپری منزل پر ایک ہال تھا۔ اس میں بہت سی میزیں تھیں۔ ان میزوں کے اوپر انگلش اور ہندی کے تمام اخبارات رکھے جاتے تھے۔ میں دیکھتا تھا کہ نوجوان لڑکے بڑی تعداد میں وہاں آتے اور دیر تک اخباروں کو الٹ پلٹ کر دیکھتے۔ میں نے ایک روز اُن میں سے بعض لڑکوں سے گفتگو کی اور ملک کے سیاسی حالات پر اُن کا نقطہ نظر جاننا چاہا، مگر معلوم ہوا کہ وہ سیاسی یا نیشنل موضوعات سے بے خبر تھے۔ ان موضوعات پر وہ اپنی کوئی رائے نہ دے سکے۔ مزید تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ نوجوان حقیقتاً اخبار پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ اخبار میں جاب کے اشتہارات پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔ چناں چہ وہ اخبارات میں ایمپلائمنٹ کالم (employment column) کو دیکھتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔
تقریباً یہی حال مسلم سیرت نگاروں کا ہے۔ وہ جس ذہن (mindset) کو لے کر سیرت کی کتابیں پڑھتے ہیں، وہ اصلاً دعوت کا ذہن نہیں ہوتا۔ اس لئے انھیں اپنے ذہن کے مطابق زیادہ تر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues