استبدال قوم
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۰
ثابت ہو گیا ہے کہ دل انسانی جسم میں صرف گردش خون (circulation of blood) کا ذریعہ ہے۔ اس معاملے میں جدید میڈیکل سائنس یہاں تک پہنچی ہے کہ اُس نے مصنوعی دل (artificial heart) تیار کیا۔ ایسے مریض جن کے دل عملاً نان فنکشنل (non-functional) ہونے والے تھے، اُن کے جسم میں ڈاکٹروں نے مصنوعی دل نصب کر دیا۔ یہ مصنوعی دل عملاً فطری دل کا بدل بن گیا۔ ایسے مریضوں کا دل عملاً معطل تھا، اُن کے جسم میں دل کی جگہ ایک مادی ڈیوائس (material device) نصب کیا گیا، اس کے باوجود اُن کا دماغ پہلے کی طرح کام کر رہا تھا۔ اُن کا حافظہ، اُن کے سوچنے کی صلاحیت، کسی کمی کے بغیر، پہلے کی طرح برقرار تھی۔ اس طرح تجرباتی طور پر ثابت ہو گیا کہ تفکیر کے عمل (thinking process) کا تعلق انسان کے دل سے نہیں ہے، بلکہ اس کے دماغ سے ہے۔ یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس سے قدیم زمانے کا انسان مکمل طور پر بے خبر تھا۔ اسلام میں معرفت کو قدیم تصور کے برعکس، دل کے بجائے دماغ پر مبنی قرار دیا گیا۔ قرآن میں دماغ (mind) کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً قلب، فواد، عقل، لب، حجر، نہی۔ واضح ہو کہ قلب کا لفظ عربی زبان میں عقل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے (لسان العرب: 687/1)۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں اس سلسلے میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ سب تفکیری عضو (thinking organ) کے معنی میں ہیں، قرآن میں گردش خون کے ذریعے کے طور پر کسی عضو کا ذکر نہیں۔ پچھلے ہزار سال کے دوران مسلمانوں میں فکری ارتقا نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان فکری عمل کا سر چشمہ غلط طور پر دل کو قرار دیے ہوئے تھے۔ جدید دریافت نے یہ راستہ کھول دیا ہے کہ مسلمانوں میں فکری ارتقا کا عمل حقیقی سطح پر جاری ہو سکے۔ قدیم زمانے میں تمام مذاہب میں معرفت حق (realization of truth) کا منبع (source) دل کو سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے قدیم زمانے میں مراقبہ (meditation) کے طریقے رائج ہوئے، مگر ان طریقوں کے ذریعے قدیم زمانے کے لوگوں کو کبھی حقیقی معنوں میں معرفت حق کا تجربہ نہیں ہوا، کیوں کہ دل صرف گردش خون کا ذریعہ تھا۔ معرفت صرف تفکیر اور تدبر کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے، جس کا مرکز انسان کا دماغ ہے۔ دل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues