استبدال قوم
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۱
رسول اور اصحابِ رسول کے مختصر زمانے کے بعد خود امتِ مسلمہ میں یہی دل پر مبنی تصورِ معرفت دوبارہ لوٹ آیا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران امتِ مسلمہ حقیقی معرفت سے تقریباً محروم رہی۔ موجودہ زمانے میں جدید میڈیکل سائنس کے ذریعے جو نیا دور آیا، اُس نے پہلی بار یہ کیا کہ دل پر مبنی معرفت کے افسانہ (myth) کو ختم کر دیا۔ اب تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ مبنی بر ذہن (mind-based) معرفت کو ڈیولپ کیا جائے اور معرفتِ الہی کے اعلیٰ درجات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اِس اعتبار سے، جدید میڈیکل سائنس قدیم نظریے کی تصحیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ 2- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مطلق العنان بادشاہت (despotism) کا طریقہ رائج تھا۔ اس سیاسی کلچر کے تحت ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر عام تھا۔ جدید مغربی تہذیب کے تحت پہلی بار ایسا ہوا کہ دنیا میں جمہوریت کا زمانہ آیا۔ جمہوریت ایک اعتبار سے، سیاسی طاقت کی عدم مرکزیت (decentralization) کا کلچر ہے۔ اِس کلچر کے تحت مذہب کے معاملے کو سیاسی اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار مذہبی آزادی کو ایک مسلمہ بین اقوامی اصول (international norm) کے طور پر مان لیا گیا اور اقوام متحدہ (UNO) کے تحت تمام قوموں نے اس کی متفقہ تصدیق کر دی ۔ اسلام ایک دعوتی مشن ہے اور اسلام کے دعوتی مشن کی عالمی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کو ایک مسلمہ بین اقوامی اصول کے طور پر مان لیا گیا ہو۔ یہ واقعہ پہلی بار مغربی تہذیب کے دور میں کامل طور پر انجام پایا ہے۔
3- قدیم زمانے میں مذہب کی بنیاد صرف عقیدہ (belief) ہوا کرتا تھا۔ انسان ایک عقلی وجود (rational being) ہے۔ ضرورت تھی کہ انسان کو ایسا مذہب دیا جائے جو اس کے عقلی ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ لیکن اِس مقصد کے لیے عقلی ڈیٹا (rational data) درکار تھا جو کہ قدیم زمانے میں دستیاب نہ تھا۔ مغربی تہذیب کے تحت پیدا ہونے والی سائنس نے فطرت (nature) میں تحقیق کے ذریعے یہ عقلی ڈیٹا فراہم کیا۔ اِس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دینِ خداوندی کے عقائد کو عقلی بنیاد (rational ground) پر قابل فہم (understandable) بنایا جا سکے۔ اِس حقیقت کا اعلان
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues