استبدال قوم
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۲
قرآن مجید میں پیشگی طور پر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: سَنُرِيهِمْ اَيٰتِنَا فِي الْاَفَاقِ وَفِيْ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقّ (41:53)۔
قرآن کی اس آیت میں آفاق اور انفس سے مراد تمام وہ مادی اور غیر مادی تخلیقات ہیں جو وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں۔ اس پورے مجموعے کو فطرت (nature) کہا جاتا ہے۔ فطرت کی اس دنیا میں بے شمار ربانی نشانیاں (signs of God) موجود تھیں۔ ضرورت تھی کہ ان نشانیوں کو دریافت کیا جائے، تاکہ امر حق خود انسانی مسلمات کی بنیاد پر مدلل ہو سکے۔ خدائی نشانیوں کی ان فولڈنگ کا یہ کام ہزاروں سال سے نہیں ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے پہلی بار سائنسی تحقیقات کے ذریعے ان نشانیوں کو کھولا اور ان کو انسان کے لیے ایک معلوم واقعہ بنایا۔ یہ موافق دلائل فطرت (nature) میں آیات الہی کے طور پر موجود تھے، وہ مخفی حالت میں تھے۔ مغربی سائنس نے قوانین فطرت کے نام سے جن حقائق کو دریافت کیا ہے، وہ دراصل یہی دلائل ہیں۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کے علمِ کلام (theology) کو قیاسات کے بجائے برہانیات کی بنیاد پر قائم کی جائے۔
4۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اُس وقت قرآن میں یہ کہا گیا تھا کہ: تَبٰرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِينَ نَذِيراً (25:1)۔ اس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کی تعلیمات کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ مگر قدیم زمانے میں عملاً ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ اس عالمی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ پوری دنیا کا جغرافیہ معلوم ہو۔ پرنٹنگ پریس اور کمیونیکیشن کا دور دنیا میں آجائے، ساری دنیا میں بہ آسانی سفر کرنا ممکن ہو جائے، لوگوں کے درمیان کھلاپن (openness) کی فضا موجود ہو، ترقی یافتہ زبانیں دنیا میں پائی جاتی ہوں، وغیرہ۔
عالمی دعوت کو ممکن بنانے کے لیے یہ تمام چیزیں لازمی طور پر ضروری ہیں۔ قدیم زمانے میں یہ اسباب موجود نہ تھے، اس لیے قدیم زمانے میں اسلام کی عالمی اشاعت کا یہ نشانہ عملاً پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ انیسویں صدی کے بعد کے زمانے میں پہلی بار یہ اسباب حاصل ہوئے ہیں اور ان اسباب کا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues