استبدال قوم
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۳
حصول براہ راست مغربی تہذیب کے ذریعے ممکن ہوا۔
5۔ قرآن اصلا ایک کتاب دعوت ہے، لیکن دعوت کی نکات کو مدلل کرنے کے لیے قرآن میں بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جن کا تعلق تاریخ یا عالم فطرت سے ہے۔ مگر ساتویں صدی کے ربع اول میں ان حوالوں کی ضروری تفصیلات معلوم نہ تھیں۔ اس بنا پر قرآن کے یہ حوالے عملاً صرف عقیدہ کا مسئلہ (matter of belief) بنے ہوئے تھے۔ اس قسم کی مثالیں قرآن میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ مثلاً قرآن میں کائنات کے آغاز کے لیے ایک حوالہ یہ ہے: أَوَ لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنٰہُمَا (21:30)۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان جب بطن مادر میں ہوتا ہے تو وہ تین پردوں (فی ظلمات ثلاث) کے درمیان ہوتا ہے (39:6)۔ اسی طرح قرآن میں فرعون کے جسم کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةٌ (10:92)۔ قرآن میں کثرت سے اس طرح کے حوالے پائے جاتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ اُن کے متعلق تاریخی اور سائنسی معلومات دریافت کی جائیں، تاکہ قرآن کے یہ بیانات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم ہو جائیں۔ یہ کام بھی پہلی بار مغربی علوم کے ذریعے انجام پایا ہے۔ 6۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر عام تھا۔ اس بنا پر دعوت حق کا کام معتدل انداز میں نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ صورت حال ایک سیاسی سبب کی بنا پر تھی۔ قدیم زمانے کے حکمراں اپنا حق حکمرانی (mandate) مذہب کی بنیاد پر حاصل کرتے تھے، اس لیے وہ اس کو برداشت نہیں کرتے تھے کہ اُن کے علاقے میں سلطنت کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب پایا جائے۔ مذکورہ آیت میں اظہارِ دین کا ایک پہلو یہ تھا کہ حق حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے جدا کر دیا جائے۔ دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا، اُس نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ یورپ کی جمہوریت اسی عمل کی تکمیل ہے۔ مغربی جمہوریت نے یہ کیا کہ حق حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے الگ کر کے اس کو عوامی رائے سے وابستہ کر دیا۔ اس کے نتیجے کے طور پر دنیا میں پہلی بار مذہبی امن کا دور آگیا۔ اس دور کی باقاعدہ تکمیل اقوام متحدہ کی صورت میں ہوئی ۔ جس کے تحت مذہب کے معاملے میں تشدد کو بطور اصول
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues