Al-Risala · April 2014 · page 34

استبدال قوم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۴

ممنوع قرار دے دیا گیا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے گویا دورِ جدید میں حکمتِ حدیبیہ کی عالمی توسیع ہے جو اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔

7۔ مغربی دنیا کے سیکولر اہلِ علم نے اسلام کا مطالعہ اپنے اصول کے مطابق، خالص موضوعی انداز میں کیا۔ اس بنا پر وہ اسلام کے کئی ایسے پہلو کو دریافت کر سکے جو مسلم اہلِ علم سے اعتقادی مطالعے کی بنا پر مخفی تھے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کے سلسلے میں غیر معمولی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس مقابلے میں پیغمبر اسلام کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کو مسلم اہلِ علم عام طور پر ”فضیلتِ رسول“ کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اس کامیابی کو فضیلتِ رسول کے خانے میں ڈالنے کا نقصان یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سے کوئی سبق نہیں ملا۔ اس طریق مطالعہ سے عام مسلمانوں کو صرف فخر کی غذا ملی۔ وہ اپنے پیغمبر کو فخرِ موجودات“ کہنے لگے۔ لیکن مغرب کے سیکولر اہلِ علم نے ان واقعات کا تجزیہ غیر جانب دارانہ ذہن کے ساتھ کیا تو انھوں نے ایک ایسی حقیقت دریافت کی جس میں تمام مسلمانوں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے کامیابی کا اعلیٰ اصول موجود تھا۔ مثلاً ایک برٹش رائٹر (E. E. Kellet) نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے تحت لکھا ہے کہ۔ انھوں نے مشکلات کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ نا کامی سے کامیابی کو نچوڑیں:

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. یہ صرف ایک تاریخی تجزیہ نہیں، اس سے زندگی کا ایک اہم اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو اُن کے خالق نے ایک انوکھی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے، اور وہ ہے اپنے مائنس کو اپنے پلس میں تبدیل کر لینا ۔

انسانی شخصیت کا یہ امکان (potential) فطرت کا ایک عظیم عطیہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعے اس انسانی فطرت کا ایک کامیاب مظاہرہ کیا، مگر مسلمان اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page