استبدال قوم
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۵
عقیدت مندانہ مطالعے کی بنا پر اس پہلو کو بطورِ سنتِ رسول اپنی زندگیوں میں شامل نہ کر سکے۔ مغربی سیرت نگاروں نے سیرتِ نبوی کے اس پہلو کو دریافت کرکے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اس کو اختیار کریں اور اس کے ذریعے اپنے منصوبوں کو حقائق کی بنیاد پر قائم کرکے اس کو کامیاب بنائیں۔ شہادتِ اعظم مغربی تہذیب کا دینِ خداوندی کے حق میں سب سے بڑا تائیدی رول یہ ہے کہ اس نے اہلِ اسلام کے لیے وہ ضروری اسباب فراہم کیے جن کو استعمال کرکے وہ دورِ آخر کے اُس اہم ترین رول کو کامیابی کے ساتھ ادا کرسکیں، جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ شہادتِ اعظم سے مراد دعوتِ اعظم ہے۔ اس دعوتِ اعظم کے دو پہلو ہیں— نظری اعتبار سے، اس کا اعلیٰ حجت (superior reason) پر قائم ہونا، اور وسعت کے اعتبار سے، اس کے دائرے کا عالمی (global) ہونا۔
صحیح مسلم میں ایک لمبی روایت آئی ہے۔ اس روایت میں دورِ آخر کے ایک اہم رول کا ذکر بطورِ پیشین گوئی کیا گیا ہے۔ اس کی بابت حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين (صحیح مسلم، رقم الحديث: 5230) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک سب سے بڑی شہادت ہوگی۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ’شہادت‘ سے مراد جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد نظریاتی معنوں میں ایک عظیم دعوتی رول ہے جو دورِ آخر میں انجام پائے گا۔ غالباً اِس سے مراد انسانی تاریخ کے آخری زمانے کا ایک فائُنل دعوتی رول ہے۔ اس دعوتی رول کی صراحت اگر چہ حدیث میں موجود نہیں ہے، لیکن قرآن وحدیث میں ایسے اشارات موجود ہیں جن پر غور کرکے اس رول کو متعین کیا جاسکتا ہے۔
1- شہادتِ اعظم کے نظری پہلو کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت سے رہنمائی ملتی ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)— قرآن کی اس آیت میں ’آیات‘ سے مراد تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں کو موجودہ زمانے میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues