استبدال قوم
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۶
مغربی سائنس دانوں نے غیر معمولی تحقیق کے ذریعے دریافت کیا۔ اس طرح دینِ خداوندی کی تاریخ میں ایک نیا دور آگیا۔ قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں جو ایمان پیغمبروں کے بتائے ہوئے عقیدہ (belief) کی حیثیت رکھتا تھا، وہ بعد از سائنس دور (post-scientific era) میں خود انسان کے اپنے دریافت کردہ علوم کے تحت ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں کائنات ایک پر اسرار ظاہرہ بنی ہوئی تھی۔ قدیم زمانے میں نہ عالم اکبر (macro world) کو دیکھنے کے لیے دوربین موجود تھی اور نہ عالم اصغر (micro world) کو دیکھنے کے لیے خورد بین دستیاب تھی۔ موجودہ زمانے میں اعلیٰ سائنسی نوعیت کے مشاہدے اور تجربے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ کائنات میں نہایت اعلیٰ درجے کی ذہین ڈیزائن موجود ہے۔ یہ دریافت اس مذہبی تصور کو یقینی بنادیتی ہے کہ یہ کائنات ایک باشعور خالق کی ایک باشعور تخلیق ہے۔ (ملاحظہ ہو: The Intelligent Universe by Fred Hoyle)
2۔ شہادت کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق عالمی دعوت (global dawah) سے ہے۔ اسلام اول دن سے سارے انسانوں کے لیے ایک دینِ رحمت کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اسلام کے پیغام کو سارے انسانوں تک پہنچانا قدیم زمانے میں ذرائع کے اعتبار سے عملاً ممکن نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں مغربی سائنس نے پہلی بار اُن تمام ذرائع کو انسان کی دسترس میں دے دیا جن کو استعمال کر کے اسلام کی عالمی دعوت کو ایک واقعہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس کی ایک مثال موجودہ زمانے میں اُس ذریعے کی ایجاد ہے جس کو الیکٹرانک کمیونیکیشن کہا جاتا ہے۔ یہ دریافت اب نہایت ترقی یافتہ سائنس بن چکی ہے۔ اس دریافت کا ایک جز موبائل فون ہے۔ اس دریافت کے تحت موجودہ زمانے میں وہ آلہ تیار ہوگیا ہے جس کو اسمارٹ فون (smartphone) کہا جاتا ہے۔ یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اس کو اپنی جیب میں رکھ سکتا ہے۔ اسمارٹ فون میں بظاہر لامحدود گنجائش (capacity) ہوتی ہے۔
موجودہ زمانے میں تمام بڑے بڑے ادارے اپنے کتابوں کو اپ لوڈ کر کے انٹرنیٹ اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues