Al-Risala · January 2014 · page 18

شخصی حکومت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۸

انھوں نے اسی مشرکانہ مذہب سے اپنے لیے حق حکم رانی (mandate) لینا شروع کر دیا۔ اس طرح ایسا ہوا کہ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں شرک کو سرکاری مذہب (official religion) کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ شرک اور سیاسی اقتدار کے اسی تعلق (nexus) کے نتیجے میں قدیم زمانے میں شرک کو ساری دنیا میں دبَدبہ حاصل ہو گیا۔ شرک کا یہ دبَدبہ مذہب توحید کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ شرک کے اسی دبَدبے کو قرآن میں فتنہ (8:29) کہا گیا ہے۔

شخصی حکومت

قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے ساری دنیا میں حکومت کا وہ نظام قائم تھا جس کو شخصی بادشاہت (Monarchy) کہا جاتا ہے۔ شخصی بادشاہت بہت جلد شخصیت پرستی (personality cult) میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ اور پھر شخصیت پرستی رفتہ رفتہ بت پرستی (idol worship) کی صورت اختیار کر لیتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایسا ہوا کہ شخصی حکومتیں آخر کار مشرکانہ حکومتیں بن گئیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے معاصر بادشاہ فرعون نے کہا کہ: أنا ربکم الأعلى (79:24)۔ قدیم زمانے میں شخصی حکومت کا نظام سب سے بڑی برائی (greatest evil) بن کر ابھرا۔ یہ انسانی آزادی کا سب سے زیادہ سنگین استعمال تھا۔ دنیا میں اس نظام کو جمہوری انقلاب کے ذریعے سیاسی طور پر ختم کیا گیا۔ آخرت میں باعتبارِ حقیقت اُس کی مجرمانہ حیثیت کا اعلان کیا جائے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : يقبض الله تبارك وتعالى الأرض يوم القيامة ويطوي السماء بيمينه ثم يقول أنا الملك، أين ملوك الأرض (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 4994)۔

خلافت کے تین دور

قرآن میں خلافت کے معنیٰ ’اسلامی خلافت‘ کے نہیں ہیں۔ قرآن کے مطابق، وہ تمام لوگ خلائف في الأرض (10:14) ہیں جن کو مختلف زمانوں میں با اختیار رول ملا، خواہ وہ اپنے عقیدے کے اعتبار سے، مذہبی ہوں یا غیر مذہبی۔ تاریخ میں جن لوگوں کو باری باری خلافتِ ارضی کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page