تہذیب کے دو دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۵
سائنس کے ذریعے ان کلمات اللہ کا جزئی ظہور (partial unfolding) ہوا، جس کے نتیجے میں دنیا کی تہذیب وجود میں آئی۔ آخرت میں اہل جنت کے ذریعے کلمات اللہ کا کامل ظہور ہو گا۔ اس کے نتیجے میں وہ دور کمال وجود میں آئے گا جس کو جنتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان جو یہاں پیدا ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو تیاری میں لگا دیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اندر کسی نہ کسی شعبے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر آدمی آخری حد تک یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی خاص ہنر مندی (skill)، کوئی خاص لیاقت (qualification)، کوئی خاص مہارت (expertise) پائی جائے، تاکہ وہ موجودہ دنیا میں قائم شدہ تہذیب کے نقشے میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل کر سکے۔ ہر عورت اور مرد زندگی کی اس حقیقت کو جانتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔
یہی معاملہ آخرت میں بننے والی بلند تر تہذیب کا ہے۔ وہاں بھی سرگرمیاں ہوں گی، وہاں بھی مناصب ہوں گے، وہاں بھی ہر قسم کے اعلیٰ شعبے ہوں گے۔ جنتی دنیا کے ان اعلیٰ مواقع کو حاصل کرنے کے لیے بھی تیار ذہن اور تربیت یافتہ افراد درکار ہیں۔ موجودہ دنیا ایک اعتبار سے، اسی اعلیٰ تیاری کی تربیت گاہ ہے۔
موجودہ دنیا کے حالات میں لوگوں کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر وہ ربانی صلاحیت پیدا کریں جو اُن کو اس قابل بنائے کہ وہ آخرت میں بننے والی بر تر تہذیب کے مناصب کے لیے منتخب کیے جاسکیں اور پھر ابدی طور پر نہ صرف آرام و عیش کی زندگی گزاریں، بلکہ ایک ایسے تہذیبی سفر کا حصہ بن جائیں جس کی ترقیاں کبھی ختم نہ ہوں۔ یہ لامحدود خوشی (endless pleasure) کی زندگی ہوگی، جو اللہ کی خصوصی رحمت سے اہل جنت کو حاصل ہوگی۔
موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو عزت کا مقام ملتا ہے، وہ اس بنیاد پر ملتا ہے کہ اس نے تہذیب کے تقاضوں کے مطابق، اپنے آپ کو کتنا تیار کیا ہے۔ یہی معاملہ آخرت کی جنتی تہذیب میں بھی ہوگا۔ موجودہ دنیا کی تہذیب میں ہر آدمی کو ڈاکٹر، انجینئر، اسکالر اور کلنکل ایکسپرٹ، وغیرہ کی نسبت سے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues