Al-Risala · April 2014 · page 46

Ph09246294664 E-Mail:aijazadil19@yahoo.com

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۶

مقامات ملتا ہے۔ آخرت میں عارف، متقی اور خاشع وغیرہ کی نسبت سے اس مقام اصل ہوگا، دنیا میں مقام ملتا ہے۔ آخرت میں عارف، سعی اور خاشع، وغیرہ کی نسبت سے اس کو مقام حاصل ہوگا۔ دنیا میں آدمی کو دنیوی تقاضے کے مطابق تیاری کی نسبت سے اپنا مقام استعمال ملتا ہے۔ آخرت میں ہر آدمی کو اروریوں کے طابعیاروں کی بات ہے۔

ربانی تقاضے کے مطابق تیاری کی نسبت سے اپنا مقام استعمال ملے گا۔ خلاصۂ کلام تہذیب (civilization) کہا ہے۔ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار ت میں ، ہمارا ر سے، کلمات الہیہ کے تہذیب (civilization) لیا ہے۔ تہذیب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کلماتِ الہیہ کے ظہور کا نام ہے۔ قیامت سے پہلے کے دورِ حیات میں یہ ظہور جزئی طور پر ہوگا اور قیامت کے بعد کے دورِ حیات میں کامل طور پر۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل تھی، اس لیے موجودہ دنیا میں کلماتِ الہیہ کے جزئی ظہور سے جو تہذیب بنی، اس میں انسانی فساد کی بنا پر منفی اجزا شامل ہو گئے۔ ۔ لیکن آخرت میں کلماتِ الہیہ کے کامل ظہور سے جو تہذیب وجود میں آئے گی، وہ انسانی فساد سے پوری طرح پاک ہوگی۔ اس لیے آخرت میں ظہور میں آنے والی تہذیب تمام تر مثبت اجزا پر مبنی ہوگی۔ اسی لیے اس کو جنتی تہذیب کہا گیا ہے۔

قرآن میں جنت کے حوالے سے ارشاد ہوا ہے کہ: لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61) یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا کو ایک موقع (opportunity) کے طور پر لے ۔ وہ اپنے آپ کو اس اعتبار سے تیار کرے کہ وہ آخرت میں بننے والی جنتی تہذیب میں اپنے لیے باعزت جگہ پا سکے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ موجودہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت کی دنیا دارالجزا۔ (2013) بہ بات ہے ؟ اس لیے ہے ؟ یہ ہورہا ہے ؟ ہو رہا ہے ؟ یا ہو رہا ہے ؟ ں آتا ہے ؟ سندھ میں کا لگتا ہے ؟ تنقید تو نہیں ہوتی ؟

حیدر آباد میں صدر اسلامی مرکز کا تلگو ترجمہ قرآن حسب ذیل پتے پر دستیاب ہے : TopPublishers,Hyd. #8-1-363/34,AdityaNagarColony Tolichowki,Hyderabad-500008(A.P.)

Ph09246294664 E-Mail:aijazadil19@yahoo.com

یہ ترجمہ گڈ ورڈ بکس ( نئی دہلی ) میں بھی دستیاب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page