Al-Risala · April 2014 · page 47

Ph09246294664 E-Mail:aijazadil19@yahoo.com

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۷

سوال و جواب سوال میں نے اماں کو کاپی تھمائی، پھر تھوڑی دیر بعد پوچھا، "اماں! تم نے سوال تو خادم کر شک اس کا الرسالہ کا ایک قاری ہوں ۔ براہِ کرم حسب ذیل سوالات کی وضاحت کریں شکریے کا موقع عنایت فرمائیں :

1۔ قرآن کا اسلوب شذراتی ہے، یا قرآن ایک منظم کلام ہے؟

2۔ مشن کلچر اور اکیڈمک کلچر کے درمیان کیا فرق ہے؟

3۔ توحید اور تزکیہ کا مفہوم کیا ہے؟

( ایک قاری الرساله، اسلام آباد، پاکستان )

جواب

1 - قرآن کو سنتے یا پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں ترتیب کا انداز نہیں، بلکہ عام طورپر فریگمنٹری (fragmentary) انداز ہے۔ قرآن کے اسلوب کے بارے میں بہت سے اہل علم کے سامنے یہ سوال رہا ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی (وفات: 1930) نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پورا قرآن ایک منظم کلام ہے۔

ذاتی طور پر میرا خیال یہ ہے کہ قرآن ایک مجموعۂ شذرات کی صورت میں ہے۔ قرآن کے مقصد کے اعتبار سے یہی اسلوب زیادہ مفید ہے۔ قرآن کا مقصد ذہنِ انسان کی تعمیر ہے۔ یہ فائدہ صرف ترکیزی فکر (focused thinking) سے حاصل ہوسکتا ہے۔ شذراتی اسلوب سے ترکیزی فکر کا فائدہ بخوبی طور پر حاصل ہوتا ہے۔ لمبی مسلسل عبارت میں فوکس پھیل جاتا ہے، جب کہ چھوٹے چھوٹے شذرات کی صورت میں ذہن کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ایک پوائنٹ پر فوکس کر کے غور وفکر کرے ۔ میرے ذاتی تجربے کے مطابق ، ذہن سازی یا فکری تشکیل کا فائدہ شذراتی انداز سے حاصل ہوتا ہے۔ چناں چہ جب میں نے 1976 میں ماہ نامہ الرسالہ نکالا تو اس کو بھی اسی شذراتی کے خاص اندازہ ہے، جہاں پہ یہ کتاب ایک نئے اسلوب میں نکالا، یعنی ہر صفحے میں ایک سوچنے والی بات۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page