Al-Risala · April 2014 · page 48

Thus my inner sight speaks.

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۸

مولانا حمید الدین فراہی کا ماننا تھا کہ نظم قرآن فہم قرآن کی کلید ہے۔ وہ اس موضوع پر نظام القرآن کے نام سے ایک تفسیر لکھ رہے تھے، مگر وہ اس کو مکمل نہ کر سکے۔ لیکن ان کے شاگرد رشید مولا نا امین احسن اصلاحی (وفات: 1997) نے اسی اسلوب پر ایک مکمل تفسیر تدبر قرآن لکھی جو 9 جلدوں پر مشتمل ہے۔

نظم کو فہم قرآن کا ایک پہلو کہا جا سکتا ہے، لیکن اُس کو فہم قرآن کی کلید کہنا درست نہیں، جب آپ قرآن کا مطالعہ اس طرح کریں کہ آپ کا ذہن نظم بین الآیات اور نظم بین السُّور پر لگا ہوا ہو تو فطری طور پر آپ کے ذہن کا فوکس پھیل جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ قرآن کی فوکسڈ اسٹڈی (focused study) نہ کر سکیں گے، اس طریق مطالعہ میں آپ کو قرآن کے کچھ فنی پہلو تو ملیں گے، لیکن تقوی کا پہلو حذف ہو جائے گا جو کہ مطالعہ قرآن کا اصل مقصود ہے۔

2۔ مشن کلچر اور اکیڈمک کلچر دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اکیڈمک کلچر تنوع (diversity) پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، مشن کلچر توحُد پر قائم ہوتا ہے۔ علمی اور تحقیقی ادارے میں افکار کا تنوع ایک قابل قبول بات ہوتی ہے، لیکن مشن کا مزاج افکار کے تنوع کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت نے مولانا ابوالحسن علی ندوی اور مولا نا محمد منظور نعمانی کو برداشت نہیں کیا، حالاں کہ دونوں اصولی طور پر تبلیغ سے اتفاق رکھتے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی ہند نے ڈاکٹر عبدالحق انصاری اور ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کو قبول (accept) نہیں کیا، حالاں کہ دونوں اصولی طور پر جماعت اسلامی سے اتفاق کرتے تھے۔ یہ کلچر مذہبی مشن کا بھی ہے اور سیکولر مشن کا بھی۔ مثلاً گاندھی کو برتر از کانگریس (greater than Congress) کہا جاتا تھا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی آٹو باؤ گرافی میں لکھا ہے کہ کانگریس کمیٹی میں بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ گاندھی جی کے نقطہ نظر سے ہم لوگوں کو اتفاق نہیں ہوتا تھا۔ اُس وقت گاندھی جی ایک جملہ بولتے تھے۔ اس کے بعد سب لوگ اُن سے متفق ہو جاتے تھے۔ وہ جملہ یہ ہوتا تھا:

Thus my inner sight speaks.

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page