Al-Risala · January 2014 · page

خلافت کے تین دور

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

رول ادا کرنے کا موقع ملا، اُن کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1۔ مشرکین کی خلافت یہ دور قدیم زمانے سے لے کر ساتویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ 2۔ موحدین کی خلافت یہ مسلم سلاطین کا دور ہے۔ یہ دور تقریباً آٹھویں صدی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک قائم رہا۔

3۔ سیکولر لوگوں کی خلافت یہ دور انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہوا اور اب تک قائم ہے۔ قدیم زمانے میں جن مشرک گروہوں کو خلافت ارضی کا رول ادا کرنے کا موقع ملا، انھوں نے اپنی آزادی کا نہایت غلط استعمال کیا۔ ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے ناحق طور پر ساری دنیا میں جبر کی حکومت (despotic rule) کا نظام قائم کر دیا۔ اس دور میں انسان کو مذہبی آزادی حاصل نہ تھی۔ اس دور میں ہر جگہ وہ کلچر قائم تھا جس کو مذہبی تشدد کا دور کہا جاتا ہے۔ اس مشرکانہ دور میں آزادانہ سوچ (free thinking) کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس بنا پر فکری ارتقا کا عمل پوری طرح ختم ہو گیا تھا۔ علم کی ترقی عملاً ناممکن ہوگئی تھی۔ اس کا ایک شدید نقصان یہ تھا کہ فطرت (nature) میں تحقیق کا کام پوری طرح رک گیا تھا۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ انسان فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرے، تاکہ انسان پر اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلیں، دعوتی عمل کو زیادہ مؤثر طور پر انجام دینا ممکن ہو جائے۔ مگر مشرکانہ اقتدار کے زمانے میں اس قسم کا عمل پوری طرح بند ہو گیا تھا۔ اللہ نے کثیر تعداد میں پیغمبر بھیجے، تاکہ وہ انسان کو بتائیں کہ وہ اپنی آزادی کو غلط استعمال کر کے اللہ کے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ لیکن پیغمبروں کی پر امن دعوتی کوشش عملاً غیر مؤثر ہو گئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے تخلیقی منصوبے کی بنا پر انسان کی آزادی کو تو ختم نہیں کیا، البتہ یہ فیصلہ کیا کہ خلافت ارضی کا رول مشرکین سے چھین لیا جائے اور اس کو موحدین کے حوالے کر دیا جائے۔ یہی خدائی فیصلہ تھا جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ (8:29)۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ دورِ شرک اپنے وجود کا جواز ختم کر چکا ہے، اس کو توڑ کر دورِ توحید کا آغاز کرو،

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page