خلافت کے تین دور
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
تاکہ انسان کے اوپر اللہ کی ابدی رحمتوں کے دروازے کھلیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اور آپ کے پیروؤں نے واقعتاً ایسا ہی کیا۔ پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں نے دورِ قدیم کی تقریباً آباد دنیا میں وہ کام کیا جس کو ایک مبصر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ۔ پیغمبر اور اُن کے پیروؤں نے قدیم زمانے کے پورے سیاسی نقشے کو بدل دیا۔ اِس طرح خلافت ارضی کا رول مسلمانوں یا موحدین کے ہاتھ میں آ گیا۔ مسلمانوں نے اِس عہد میں جو رول ادا کیا، وہ کوئی نظام قائم کرنا نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام قائم کرنا امت مسلمہ کا نشانہ ہی نہیں۔ مسلم عہد میں جو کام انجام پایا، اس کے دو بڑے پہلو تھے— ایک تھا دنیا میں آزادی کا دور لانا اور دوسرے، علومِ فطرت کے انکشاف کا دروازہ کھولنا۔
قرآن میں کہا گیا تھا کہ: أمرهم شورى بينهم (42:38)— یہ آیت کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ اِس آیت میں دراصل ایک مطلوب عالمی انقلاب کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دنیا سے شخصی حکومت کا دور ختم ہو اور اس کے بجائے جمہوری حکومتوں کا دور آئے، تاکہ انسان کو یہ موقع ملے کہ وہ آزادی کے ساتھ سوچ سکے، تاکہ انسان کے پوٹینشل کی انفولڈنگ ہو، تاکہ انسان کو فطرت کے رموز کی دریافت کا موقع ملے، تاکہ ربانی تہذیب کو قلم بند کرنے کا وہ دور شروع ہو جس کا ذکر قرآن میں ان شاہانہ الفاظ میں کیا گیا ہے: وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (31:27) جمہوریت کا دور دور جمہوریت دراصل دورِ آزادی کا دوسرا نام ہے۔ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، زمین پر آزادانہ ماحول کا باقی رہنا بے حد ضروری ہے۔ انسان سے جورول مطلوب ہے، وہ صرف آزادی کے ماحول میں ممکن ہے۔ جمہوریت کا یہ دور مسلم عہد میں شروع ہوا۔ وہ پراس کے روپ میں آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ 1789 میں انقلابِ فرانس کی صورت میں اس کی تکمیل ہوئی۔ جمہوریت (democracy) انسانی تاریخ کا ایک عظیم مرحلہ ہے۔ اِس دور میں پہلی بار
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues