خلافت کے تین دور
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
ایسا ہوا ہے کہ آزادی اور امن انسان کا اپنا چوائس (choice) بن گیا ہے۔ اس سے پہلے ایسا تھا کہ کسی انسان کو آزادی اور امن صرف اُس وقت ملتا تھا، جب کہ حاکم وقت اس کو بطور عطیہ اُسے دے دے۔ اب یہ معاملہ کسی دینے والے کا عطیہ نہیں رہا، بلکہ وہ ہر انسان کا مطلوب حق (absolute right) بن چکا ہے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس حق کو آپ سے چھین لے۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ ملیں گے جو یہ شکایت کریں گے کہ اُن کو آزادی اور امن کے ماحول میں کام کرنے کے مواقع حاصل نہیں۔ ایسے لوگ بلاشبہ زندگی کے راز سے بے خبر ہیں۔ موجودہ زمانے میں آزادی اور امن کی جو نعمت ملی ہے، اس کو استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس حکمت کو جانے کہ اس کو اپنے عمل کے لیے ایسا نشانہ مقرر کرنا ہے جو دوسرے سے ٹکراؤ کیے بغیر جاری کیا جا سکے۔ اگر آپ اپنے لیے ایسا نشانہ مقرر کریں جو دوسروں کی زندگی میں خلل ڈالنے والا ہو تو آپ کے حصے میں صرف شکایت اور پروٹسٹ آئے گا، لیکن اگر آپ اپنے عمل کے لیے ایسا نشانہ مقرر کریں جو کسی حال میں دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) نہ بنے، تو آپ ساری عمر کام کرتے رہیں گے اور کبھی آپ کو دوسروں کے خلاف شکایت نہ ہوگی۔
یہی وہ راز ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے: (الصلح خير 4:128)۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم ایسا نشانہ مقرر کرو جس میں دوسروں سے ٹکراؤ نہ پیش آتا ہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمھارے لیے اس دنیا میں خیر ہی خیر ہوگا۔ تمھارے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ تم دوسروں کے خلاف شکایت سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے کام کو مکمل کرو۔ جو آدمی شکایت کی زبان بولے، وہ صرف یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس نے اپنے لیے غلط نشانے کا انتخاب کیا تھا۔ یہ معاملہ خود اپنے نشانے کی غلطی کا معاملہ ہے، نہ کہ دوسروں کے ظلم یا دشمنی کا معاملہ۔
مسلم دورِ سلطنت میں دوسرا جو بڑا کام ہوا، وہ یہ کہ فطرت کو پرستش کے موضوع سے ہٹا کر تحقیق کا موضوع بنا دیا گیا۔ یہ عمل بھی تدریجی طورپر جاری ہوا اور آخر کار اُس علمی انقلاب تک پہنچا جس کو سائنسی انقلاب (scientific revolution) کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی انقلاب نے اُس پیشین گوئی کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues