جنت کی نرسری
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
فطری ہیبی ٹیٹ (natural habitat) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ اس جنت میں انسان کا داخلہ انتخاب (selection) کی بنیاد پر مقرر کیا گیا۔ موجودہ سیارہ ارض اس مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ یا نرسری کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو پیدا کر کے اس کو مکمل آزادی دے دی گئی ہے۔ آزادی کے اس ماحول میں جو عورت یا مرد اپنے آپ کو جنت کی دنیا میں بسائے جانے کا مستحق ثابت کریں ، اُن کو منتخب کر کے یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت میں آباد ہو کر مزید ترقی کی منزلیں طے کریں۔ اس کے برعکس، جو افراد زمینی زندگی کے امتحان میں ناکام ہو جائیں ، اُن کو رد کر کے کائناتئی کوڑے خانے میں پھینک دیا جائے۔
مذکورہ حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا معاملہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اللہ کے سچے بندوں کے رہنے کی بہترین جگہ ہے۔ وہ ایک عالی شان رہائش گاہ ہے، مگر اپنی ابتدائی صورت میں وہ ایک غیر آباد جگہ ہے۔
اس ابدی جنت کی آبادکاری کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ موجودہ سیارہ ارض کو ایک نرسری یا سلیکشن گراؤنڈ کے طور پر بنایا۔ موجودہ زمین پر جو عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں، وہ گویا نرسری میں لگائے جانے والے پودے ہیں۔ ان پودوں میں جو پودا یہ ثابت کرے گا کہ وہ صحت مند پودا (healthy plant) ہے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر جنت کے زیادہ بہتر اور ابدی مقام پر نصب کر دیا جائے گا، تاکہ وہ وہاں کے بہتر ماحول میں پرورش پا کر مزید ترقی کرے اور ابدی طور پر جنت کے شاداب باغ کا حصہ بن جائے۔
اس حدیث میں جن کلمات (سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله) کا ذکر ہے، وہ باعتبارِ لفظ مراد نہیں ہیں، بلکہ وہ بہ اعتبار معنی مراد ہیں، یعنی ان الفاظ میں جس آئڈیالوجی کا ذکر ہے، یہ الفاظ جس معرفت کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ جس طرزِ فکر (way of thinking) کو بتاتے ہیں، اُس کے مطابق، اپنی سوچ کو بنانا، اس کے مطابق، اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا، ان کلمات کی اسپرٹ کو اپنے دل و دماغ میں اتارنا، یہاں تک کہ آدمی ربانی صفات والا