Al-Risala · May 2014 · page 23

تاریخ کا تجربہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳

مِنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ (32:17) یعنی کسی کو نہیں معلوم کہ اُن کے لیے اُن کے اعمال کے صلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے، وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے اپنے منصوبے کے مطابق، پہلے جنت کی دنیا بنائی۔ اس کے بعد اہلِ جنت کا انتخاب کرنے کے لیے موجودہ سیارہ ارض کو بنایا، جو کہ دراصل جنت کی ابدی دنیا کے لیے ایک عارضی نرسری کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس عارضی نرسری میں عورت اور مرد محدود مدت کے لیے پیدا کیے جاتے ہیں۔ منصوبہ تخلیق کے مطابق، جب انسانوں کی تعداد پوری ہو جائے گی، اُس وقت سیارہ ارض پر قیامت کا زلزلہ آئے گا اور اس کی موجودہ حیثیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انسان کو موجودہ دنیا میں بسنے کے لیے صرف محدود وقت ملتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی عمر کا اوسط تقریباً 70 سال ہے۔ اس مدت میں جو افراد اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں، اُن کو موت کے بعد لے جا کر جنت کی دنیا میں آباد کر دیا جاتا ہے اور جو عورت یا مرد اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر میں ناکام رہتے ہیں، اُن کو ”خبیث پودے“ کی مانند اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ زمین کی صورت میں جو نرسری بنائی گئی ہے، وہ صرف عارضی مدت کے لیے ہے، اور جنت کی صورت میں جو معیاری دنیا بنائی گئی ہے، وہ ابدی ہے، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page