احیاء امت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
احیاء امت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ طولِ امد کے نتیجے میں امتوں کے اندر قساوت (57:16) پیدا ہو جاتی ہے، یعنی ہرا مت کی بعد کی نسلوں میں زوال آتا ہے۔ امت میں زوال کے بعد احیا (57:17) کے لیے کیا کرنا چاہیے، قرآن میں اس کا ایک ماڈل حضرت موسیٰ کی مثال کی صورت میں بتایا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، جس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک مستند ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، اسی طرح حضرت موسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کی زندگی بھی اہل ایمان کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے (6:90)۔
حضرت موسیٰ ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ وہ قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ اُن کا زمانہ تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ ان کے حالات تفصیل کے ساتھ قرآن، اور بائبل میں موجود ہیں۔ اس کے مطالعے سے جہاں دوسری باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایک زوال یافتہ امت کو زوال کی حالت سے نکالنے کے لیے عملی طور پر کیا کرنا چاہیے۔ اللہ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو دو کام سپرد ہوا تھا— ایک طرف، فرعون کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچانا اور دوسری طرف، بنی اسرائیل کو زوال کی حالت سے نکالنے کی تدبیر کرنا۔ انھوں نے یہ دونوں کام پوری طرح انجام دیا۔ انھوں نے ایک طرف، فرعون اور اس کی قوم کے سامنے اللہ کی حجت تمام کی اور دوسری طرف، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ اس کا مقصد زوال یافتہ قوم کی اصلاح کرنا تھا۔
فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اتمامِ حجت کے بعد اللہ نے اُن کے ساتھ اُسی انجام کا فیصلہ کیا جو اس طرح کی دوسری قوموں کے ساتھ اللہ کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے، یعنی اُن کی کامل ہلاکت۔ چناں چہ فرعون، اس کی فوجی طاقت، اس کے درباری سب کے سب بیک وقت سمندر میں غرق کردئے گئے۔