خلافت کے تین دور
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
واقعہ بنا دیا جس کی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ اَيٰتِنَا فِي الْاَفَاقِ وَفِيْ اَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ موجودہ زمانے میں جمہوری انقلاب اور سائنسی انقلاب کی صورت میں جو انقلابات ظہور میں آئے، وہ پوری طرح اسلام کے حق میں تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید دور (modern age) پورے معنوں میں ایک موافق اسلام دور ہے۔ اس دور کا آغاز مسلمانوں کے سیاسی عروج کے زمانے میں ہوا، لیکن اس دور کی تکمیل تاریخ کے اُس تیسرے دور میں ہوئی جس کو اوپر کی تقسیم میں ’’سیکولر لوگوں کی خلافت‘‘ کہا گیا ہے۔ امت مسلمہ کا نیا رول قرآن کی سورہ آل عمران میں فطرت کے ایک اصول کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: قُلِ اللَّهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (3:26) یعنی تم کہو، اے اللہ، سلطنت کے مالک، تو جس کو چاہے، سلطنت دے اور جس سے چاہے، سلطنت چھین لے۔ اور تو جس کو چاہے، عزت دے اور جس کو چاہے، ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلافتِ ارضی کسی گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں۔ یہ ایک رول ہے جس کو اللہ اپنے منصوبے کے تحت کبھی ایک گروہ کو دیتا ہے، کبھی دوسرے گروہ کو۔ جب کسی گروہ کو خلافتِ ارضی ملے تو اس کو یہ دریافت کرنا چاہیے کہ اس کو یہ رول کس مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ اور جب اس سے خلافتِ ارضی چھین لی جائے تو اُس وقت بھی اس کو جاننا چاہیے کہ یہ منصب کیوں اُس سے چھیناگیا۔ اس حقیقت سے بے خبری کا یقینی نقصان یہ ہے کہ متعلقہ گروہ کو اللہ کی نصرت نہ ملے اور نتیجہ وہ ہر اعتبار سے ناکام ہوکر رہ جائے۔
آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم ایمپائر قائم ہوا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ اب خلافتِ ارضی کا رول مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔ وہ رول یہ تھا کہ دنیا سے قدیم طرز کی بادشاہت (kingship) کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہ کام مسلمانوں کے ذریعے عالمی پیمانے پر انجام پایا۔ صدیوں تک مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues