احیاء امت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
ایک تخمینے کے مطابق ، اُس وقت مصر کی کل آبادی تین ملین سے کچھ زیادہ تھی۔ اس آبادی میں بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً ایک چوتھائی حصے پر مشتمل تھی۔ اگر حضرت موسیٰ کے نزدیک بنی اسرائیل کے احیاء نو کا طریقہ یہ ہوتا کہ اُن کو حکومت دلائی جائے یا ملک میں اُن کے سیاسی ادارے قائم کیے جائیں، تو فرعون کی غرقابی کے بعد اس منصوبے کو عمل میں لانے کا وقت اس کے لیے بہترین وقت تھا۔ غرقابی کا واقعہ پیش آنے کے بعد فرعون کی سیاسی اور فوجی طاقت ختم ہو چکی تھی۔ جادوگروں کا طبقہ حضرت موسیٰ کے دین کو اختیار کر چکا تھا۔
اس طرح کے واقعات کے نتیجے میں پورے مصر میں حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا دبدبہ قائم ہو چکا تھا۔ اس طرح حالات پوری طرح تیار ہو چکے تھے کہ حضرت موسیٰ مصر کی حکومت پر قبضہ کر لیں اور سیاسی اقتدار کے ذریعے بنی اسرائیل کے احیاء نو کا کام کریں۔ مگر حضرت موسیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس، حضرت موسیٰ نے جو کچھ کیا، وہ یہ تھا کہ انھوں نے مصر کو چھوڑ دیا اور بنی اسرائیل کی پوری جمعیت کو لے کر صحرائے سینا میں چلے گئے، جہاں مشقت کی زندگی کے سوا بنی اسرائیل کے لیے کچھ اور نہ تھا۔ اس واقعے کا حوالہ قرآن کی سورہ المائدہ کی آیت نمبر 26 میں دیا گیا ہے۔ اس صحرائی ماحول میں بنی اسرائیل چالیس سال (1400-1440 قبل مسیح) تک سخت مشقت کی زندگی گزارتے رہے، یہاں تک کہ ایسا ہوا کہ اُن میں جو زیادہ عمر کے لوگ تھے، وہ سب مر گئے اور جو نوجوان تھے، وہ صحرا کے پرمشقت ماحول میں تربیت پا کر ایک نئی زندہ قوم کی صورت میں ابھرے۔ بنی اسرائیل کی یہی تربیت یافتہ نسل تھی جس نے بعد کے دور میں تاریخی کارنامے انجام دئے۔
بنی اسرائیل کے ساتھ جو طریقہ اختیار کیا گیا، اُس کو صحرائی طریق علاج (desert therapy) کہا جا سکتا ہے۔ صحرائی علاج کا یہ طریقہ اس سے پہلے بنو اسماعیل کے ساتھ اختیار کیا گیا تھا۔ وہ عرب کے صحرا میں تربیت پا کر تیار ہوئے اور پھر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ایک طاقت ور ٹیم کی صورت میں انھوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دئے۔