Al-Risala · May 2014 · page

زوال کی آخری مثال

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

میں ایک چیز مفقود تھی، وہ تھی مسلم نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت۔ اس مسئلے کا حل قرآن میں، بنی اسرائیل کے حوالے سے ان الفاظ میں موجود تھا: وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً یعنی اپنے گھروں کو مذہبی تعلیم و تربیت کا مرکز بنا دو۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہی کرنا تھا۔ وہ یہ کہ مدرسے کی تعلیم کے علاوہ، مسلم نوجوانوں کی باقاعده تعلیم (formal education) وہ سیکولر تعلیم گاہوں میں دلوائیں اور اسی کے ساتھ وہ اپنے گھروں کو انفارمل ایجوکیشن (informal education) کا مرکز بنا دیں۔ تا کہ دونوں تقاضے بحسن و خوبی پورے ہوسکیں۔

مگر مسلم رہنماؤں نے اس کے برعکس، یہ کیا کہ انھوں نے قومی بنیاد پر مسلمانوں کے الگ تعلیمی ادارے قائم کیے۔ یہ تعلیمی ادارے، جہاں صرف مسلمانوں کے لیے تعلیم کا انتظام تھا، وہ فطری طور پر مسابقت اور چیلنج سے خالی تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت جلد یہ ادارے مسلم گھیٹو (Muslim ghetto) بن کر رہ گئے۔

موجودہ زمانے کے مسلمان اپنے زوال کی بنا پر اس قابل نہیں رہے تھے کہ وہ خود اپنے الگ قومی ادارے چلائیں۔ اس طرح کے ادارے قائم کرنے کا مطلب یہ تھا کہ زوال یافتہ افراد کو حقیقی لیاقت کے بغیر، بڑی بڑی پوزیشن دے دی جائے۔ چناں چہ ان اداروں میں اسلام تو نہیں آیا، البتہ ایک زوال یافتہ قوم کا قومی کلچر فروغ پانے لگا۔ یہی حال اُن ملکوں کا ہوا جو اسلام کے نام پر بنائے گئے تھے۔ ان ملکوں میں زوال یافتہ افراد کو اچانک بڑے بڑے عہدے مل گئے اور انھوں نے پورے ملک کو زوال یافتہ کلچر کا جنگل بنا دیا۔

زوال کی آخری مثال

دورِ زوال کے بارے میں حدیث میں بہت سے انتباہات آئے ہیں۔ اُن میں سے ایک انتباہ وہ ہے جو اس حدیثِ رسول میں ملتا ہے: لا ترجعوا بعدي كفاراً ، يضرب بعضكم رقاب بعض (صحيح البخاري، رقم الحديث (1739) یعنی میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک شخص دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page