Al-Risala · May 2014 · page

جدید تعلیم کی اہمیت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

شخص کی گردنیں مارنے لگے۔ اس حدیث میں ”کفار“ کا لفظ فقہی معنی میں نہیں ہے، یہ دراصل تہدیدی زبان (language of hammering) ہے۔ یہاں شدت کے انداز میں بتایا گیا ہے کہ زوال جب اپنی آخری حد تک پہنچتا ہے تو امت کا حال کیا ہوتا ہے۔ اُس وقت لوگوں کے اندر خوفِ خدا کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اسی بے خوف نفسیات کی بنا پر وہ ایسا فعل کرنے کے لیے جری ہو جاتے ہیں جو قرآن کی صراحت کے مطابق، مبینہ طور پر ایک جہنمی فعل (4:93) ہے، یعنی ایک مومن کا دوسرے مومن کو ناحق قتل کرنا۔

جدید تعلیم کی اہمیت

جدید تعلیمی نظام کو سیکولر نظام کہا جاتا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جدید تعلیم نئے دور کا نظامِ تعلیم تھا۔ وہ نئے دور کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آیا تھا۔ اس کا سیکولر پہلو اس اضافی (relative) پہلو ہے، نہ کہ حقیقی (real) پہلو۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو نئی دریافتیں ہوئیں، اُس نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق براہِ راست طور پر انسان کی عملی زندگی سے تھا۔ دورِ جدید میں زندگی کے تمام شعبے مکمل طور پر بدل گئے۔ ان شعبوں کو چلانے کے لیے نئے ماہرین اور نئے تربیت یافتہ افراد درکار تھے۔ جدید تعلیمی نظام گویا انھیں جدید قسم کے افراد کو تیار کرنے کا کارخانہ تھا۔ کسی قوم کے لیے اس تعلیمی نظام سے علاحدگی کا مطلب یہ تھا کہ اُس قوم کے پاس موجودہ دور کے اس جدید نقشۂ حیات کو چلانے کے لیے افراد کا موجود نہ ہوں۔ موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا کیس یہی ہے۔ اپنے قائدین کی رہنمائی میں امت نے یہ غلطی کی کہ وہ جدید تعلیمی اداروں کی عصری اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اپنے نو جوانوں کو اس تعلیمی نظام سے دور رکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری امت دورِ جدید میں بے جگہ (displaced) ہو کر رہ گئی۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی مبینہ پس ماندگی کا اصل سبب یہی ہے۔

افراد، نہ کہ مجموعہ

موجودہ زمانے میں مسلم علما اور رہنماؤں نے بہت سی تحریکیں چلائیں، لیکن ہر تحریک اپنے مطلوب

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page