انگریزی تعلیم
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس ناکامی کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے غلط مفروضے سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ انھوں نے موجودہ مسلمانوں کو خیر امت فرض کر لیا اور اسی مفروضے پر وہ اپنی منصوبہ بندی کرنے لگے، حالاں کہ موجودہ مسلمان صرف ایک زوال یافتہ گروہ بن چکے تھے۔ یہ ایک مشترک غلطی تھی جس میں یہ تمام حضرات مبتلا رہے- اس بنا پر اُن کا حال اُس معمار جیسا ہو گیا جو کچی اینٹوں کو پختہ اینٹ سمجھ کر قلعے کی تعمیر شروع کر دے۔ ایسے معمار کا یقینی انجام صرف یہ ہے کہ اس کا قلعہ کبھی تعمیر نہ ہو سکے۔
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ کوئی زوال یافتہ قوم دوبارہ اس طرح اصلاح قبول نہیں کرتی کہ پوری قوم بطور مجموعہ اصلاح یافتہ ہو جائے (21:95)۔ ایسا نہ ماضی میں کبھی ہوا اور آئندہ کبھی ہو سکتا ہے۔ اس بنا پر اصلاح کے کام میں خواہ پورے مجموعے کو خطاب کیا گیا ہو، لیکن ہمیشہ کچھ افراد ہی اُس سے اصلاح قبول کرتے ہیں۔ اس لیے تحریک کی کامیابی کا معیار ہمیشہ افراد قوم ہوتے ہیں، نہ کہ مجموعہ قوم۔
انگریزی تعلیم
ٹی بی میکالے (Thomas Babington Macaulay) ایک انگریز مورخ اور سیاست داں تھا۔ وہ 1800 میں پیدا ہوا، اور 1859 میں اس کا انتقال ہوا۔ وہ 1835 میں انڈیا آیا۔ اُس وقت کی برٹش حکومت میں اس کو ایک بڑا عہدے دار بنایا گیا۔ اس نے ایک تعلیمی نظریہ وضع کیا جس کو میکال ازم (Macaulayism) کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد تھا ملک میں اینگلی سائزڈ انڈین (anglicised Indians) کا ایک نیا طبقہ پیدا کرنا۔
لارڈ میکالے سے پہلے انڈیا کی آفیشیل زبان فارسی تھی۔ لارڈ میکالے کی کوششوں سے ایسا ہوا کہ 1938 میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کے بعد ملک کے اسکولوں میں انگریزی زبان ذریعہ تعلیم قرار پائی۔
لارڈ میکالے کا کہنا تھا کہ اس سے ایک نئی نسل پیدا ہوگی جو کہ پیدائش کے اعتبار سے