So that a generation may arise which is
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
ہندوستانی اور اپنے ذہن کے اعتبار سے انگریز ہوگی :
So that a generation may arise which is
لارڈ میکالے نے جب یہ کہا تو اس کے خلاف سخت ہنگامہ کیا گیا، خاص طور پر مسلم رہنما انگریزی تعلیم کے شدید مخالف ہو گئے، حتیٰ کہ انھوں نے کہا کہ انگریزی تعلیم گاہیں مسلمانوں کے لیے قتل گاہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ سب غیر ضروری اندیشے تھے۔ عملاً جو کچھ ہونے والا تھا، وہ صرف یہ کہ ان درس گاہوں میں تعلیم پانے کی وجہ سے کٹرپن ختم ہو جائے اور لوگوں کے اندر کھلا پن آ جائے ۔ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو لارڈ میکالے کا قول ایک لفظی تبدیلی کے ساتھ دراصل یہ تھا :
So that a generation may arise which is Indian in birth and چناں چہ تجربہ بتاتا ہے کہ ان انگریزی اداروں میں تعلیم پائے ہوئے مسلم نو جوانوں میں سے بہت سے ایسے تھے جو بعد کو بہترین مسلمان بنے۔ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو انھیں انگریزی اداروں سے بہترین افراد حاصل ہوئے، وغیرہ۔ اس معاملے میں اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ لارڈ میکالے یا برٹش حکمرانوں نے بطور خود کس نظریے کے تحت انگریزی تعلیم گاہیں بنائیں، بلکہ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ باعتبار نتیجہ ان کا انجام کیا ہوا، اور یہ کہ یہاں سے کس قسم کے لوگ تعلیم پا کر نکلے۔
انگریزی تعلیم حقیقتاً برٹش تعلیم نہ تھی، بلکہ وہ جدید علم (modern learning) کے حصول کا ذریعہ تھی۔ ماڈرن ایجوکیشن اپنی حیثیت کے اعتبار سے نہ پروبرٹش (pro-British) تھی اور نہ اینٹی مسلم، وہ صرف جدید علوم تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھی۔ ’انگریزی تعلیم‘ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود ٹوٹا، ان کے اندر کھلا پن آیا، ان کے اندر متعصبانہ طرزِ فکر (biased thinking) کا خاتمہ ہوا، وہ چیزوں کو موضوعی انداز (objective way) میں دیکھنے لگے، ان کے اندر کٹر پن ختم ہو گیا،