Al-Risala · May 2014 · page

اسلام اور دورِ جدید

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

اسلام اور دورِ جدید

تاریخ کے بارے میں اللہ کا ایک منصوبہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39)۔ اس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے موجودہ کرۂ ارض کو بنایا اور یہ مقدر کر دیا کہ اس کی نعمتیں (blessings) یکساں طور پر تمام انسانوں کو حاصل ہوں (55:10)۔ تاریخ انسانی کی ابتدا میں ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے دنیا میں شخصی حکمرانی کا نظام آ گیا۔ یہ سیاسی کلچر طاقت کے زور پر قائم ہوا اور پھر پوری انسانی تاریخ میں پھیل گیا۔ یہ سیاسی اجارہ داری (political monopoly) اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے خلاف تھی۔ اس نظام نے انسانی آزادی کو بہت زیادہ محدود کر دیا، جب کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان پوری طرح آزاد رہے۔ اس نظام کے تحت یہ ہوا کہ ایک طبقے کو ہر اعتبار سے مراعاتی طبقہ (privileged class) کا درجہ مل گیا، جب کہ بیش تر لوگ اُس سے محروم رہے۔ اس نظام نے اپنے تحفظ کے لیے مختلف قسم کی پابندیاں لوگوں پر عائد کر دیں۔ انھیں میں سے ایک چیز وہ بھی تھی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔

اس سیاسی نظام کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کے پیدا کردہ تمام مواقع پر ایک محدود طبقے کی اجارہ داری قائم ہو اور بیشتر لوگ اس سے محروم ہو جائیں کہ وہ آزادانہ طور پر وہ کام کر سکیں جو نظام تخلیق کے مطابق، اُن سے مطلوب ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ اُس وقت تک سیاسی اجارہ داری کا یہ نظام لوگوں کے اوپر اپنی گرفت (grip) پوری طرح مضبوط کر چکا تھا۔ یہ صورتِ حال اللہ کے تخلیقی منصوبہ کے سراسر خلاف تھی۔ اس نظام کے تحت یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ انسانی شخصیت کے فطری امکانات (potentials) انفولڈ (unfold) ہوں، زمین کے فطری امکانات دریافت ہوں اور وہ چیز وجود میں آئے جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page