رول کی تبدیلی
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
جس ملک میں داخل ہوئے، وہاں انھوں نے قدیم طرز کی سیاسی آمریت کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن پھر وہ وقت آیا کہ مسلم سلطنتوں کا زوال شروع ہوا۔ انیسویں صدی کا آغاز مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے خاتمے کا اعلان تھا۔ پوری دنیا میں ایک کے بعد ایک، مسلم سلطنتیں مغربی اقوام سے مغلوب ہو کر رہ گئیں۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی کہ وہ اپنی سیاسی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکیں، لیکن دوسوسالہ جدوجہد کے باوجود وہ اپنی ان کوششوں میں مکمل طور پر نا کام رہے۔
یہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ عملاً مسلمانوں کے رول میں تبدیلی کا اعلان تھا۔ اٹھارھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی رول ختم ہو چکا تھا۔ اب اُن سے جو رول مطلوب تھا، وہ دوسرا رول تھا، اور وہ تھا — جدید امکانات کو استعمال کر کے عالمی سطح پر دین خداوندی کی اشاعت۔ دورِ جدید میں اللہ نے اپنی مصلحت کے تحت اہل مغرب کو یہ موقع دیا کہ وہ نئے وسائل کی دریافت کر کے اُن کو عام کریں۔ اہل مغرب کے ذریعے دنیا میں پہلی بار وہ چیزیں آئیں جو عالمی دعوت کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً مذہبی آزادی، کھلا پن، عالمی آمدورفت، پرنٹنگ پریس، عالمی کمیونیکیشن، وغیرہ۔ یہ نئے حالات اس بات کا اشارہ تھے کہ اب امت مسلمہ کا رول بدل گیا ہے۔ اب اُن کا رول یہ ہے کہ نئے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اسلام کے فطری پیغام کو تمام قوموں اور تمام انسانوں تک پہنچادیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ تقریباً پوری امت اس عظیم حقیقت سے بے خبر رہی۔ انھوں نے رول کی اس تبدیلی کو نہیں سمجھا۔ وہ اپنی گزری ہوئی سیاسی عظمت کی واپسی کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑائی کرتے رہے۔ یہ عمل خدائی منصوبے کے خلاف تھا، اس لیے اس کو خدا کی مدد حاصل نہیں ہوئی اور وہ مکمل طور پر نا کام ہو گیا۔ امتِ مسلمہ کے اس نئے رول کو حدیث میں بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کر دیا گیا تھا: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر و لا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام ۔
رول کی تبدیلی
انیسویں اور بیسویں صدی نے امتِ مسلمہ کو ایک نئے دور میں پہنچا دیا۔ نئے دور کے حالات بتا رہے تھے کہ امتِ مسلمہ کا رول اب بدل گیا ہے اور وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے— عالمی دعوت۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues