Al-Risala · January 2014 · page

رول کی تبدیلی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

نئے دور کے مسلم رہنما نا قابل فہم طور پر جدید دور سے بے خبر رہے۔ چناں چہ وہ امت مسلمہ کو اس کا نیا رول بھی نہ بتا سکے۔ نئے دور میں امت مسلمہ کی بہت بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ امت دورِ جدید میں اپنے اس نئے رول سے بے خبر ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری امت کا کیس اُس قوم کا کیس بن گیا جو اپنی سمت سفر (direction) سے بے خبر ہوگئی ہو۔

یہ زمانہ وہ تھا جب کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ چکی تھی۔ اس دور میں امت کے تقریباً تمام رہنماؤں نے ایک ہی کام کیا، وہ ایسی باتیں لکھنے اور بولنے لگے جو امت کی زوال یافتہ نفسیات سے مطابقت رکھتی تھی، لیکن وہ یقینی طور پر خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھی۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی امت مسلمہ کے لیے زبردست سرگرمیوں کی صدی ہے، مگر یہ سرگرمیاں خود ساختہ قومی رول کے لیے تھیں، نہ کہ خدا کے مطلوب رول کے لیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت اپنی سرگرمیوں میں خدا کی نصرت سے محروم ہوگئی۔ اس دور میں اُس نے جونشانے مقرر کیے، وہ سب قومی نشانے تھے جو زوال یافتہ نفسیات کے تحت بنے تھے۔ اس بنا پر ان نشانوں کے لیے یہی مقدر تھا کہ وہ پورے نہ ہوں۔ اس قومی ناکامی کے بعد دوسری زیادہ بڑی ناکامی سامنے آئی، وہ یہ کہ پوری امت منفی نفسیات میں مبتلا ہوگئی۔ مایوسی، منفی سوچ، شکایت اور پروٹسٹ کا ذہن، مشتعل مزاجی، تشدد، ساری دنیا کو اپنا دشمن سمجھ لینا، ہر طرف سازش دکھائی دینا، گن کلچر اور بم کلچر اور آخر میں احساس ناکامی کی بدترین صورت، یعنی خود کش بم باری۔ اکیسویں صدی میں امت مسلمہ کی یہ ایک عمومی تصویر ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ پوری قوم تشدد کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی، اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگوں کا کیس فعال تشدد (active violence) کا کیس ہے اور کچھ لوگوں کا کیس منفعل تشدد (passive violence) کا کیس ہے۔

یہ ایک عمومی بربادی کی حالت ہے۔ امت کو اس بربادی سے نکالنے کی صورت صرف یہ ہے کہ اس کے اندر سے منفی سوچ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور اس کے اندر مکمل طور پر مثبت سوچ (positive thinking) لائی جائے، اس کو تیار کیا جائے کہ وہ دوبارہ اپنے اصل مشن پر کھڑی ہو جائے، یعنی دعوت الی اللہ کا مشن۔ اس معاملے میں کوئی بھی عذر (excuse) قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page