دعوہ ایمپائر
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
دعوہ ایمپائر
قدیم زمانے میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم تھا۔ آج بھی تمام مسلمان اسی ماضی کی واپسی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ مگر یہ ایک قسم کی خلاف زمانہ بات (anachronism) ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ تاریخ کے بارے میں اللہ کے منصوبے کو سمجھیں اور اس کے مطابق، اپنے عمل کا نقشہ بنائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب سیاسی ایمپائر بنانے کا زمانہ ختم ہو گیا، لیکن امت مسلمہ کے لیے ایک اور زیادہ بڑا موقع پوری طرح کھل چکا ہے اور وہ ہے پرامن اسلامی دعوت کا عالمی ایمپائر قائم کرنا۔ اس قسم کے دعوہ ایمپائر کا امکان ایک حدیث رسول میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا ہے۔ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا: کلمة واحدة تعطونها، تملکون بها العرب، وتدين لكم بها العجم (البداية والنهاية: 3/123) یعنی میں تم کو ایک ایسے کلمہ کی طرف بلاتا ہوں جس کے ذریعے تم عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمھاری اطاعت کریں گے۔
قدیم زمانے میں سیاسی ایمپائر بنانے کے لیے بڑی بڑی لڑائیاں ہوئیں، لوگوں کو جانوں کی قربانیاں دینی پڑیں، مگر آج اسلام کا دعوہ ایمپائر یا آئیڈیا لاجیکل ایمپائر بنانے کے لیے کسی لڑائی کی ضرورت نہیں۔ نئے حالات میں پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کا پرامن دعوہ ایمپائر بنایا جائے اور دنیا اس کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے اس کے ساتھ اپنا بھر پور تعاون پیش کرے (20 ستمبر 2013) کشمیر میں دعوتی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک منظم دعوتی مہم چلائی جارہی ہے۔ جو لوگ اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہ حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں :
Al-Quran Mission, Kashmir Email: kwc.beerwah@gmail.com, Mob. 9419488008 مراٹھی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دعوتی پمفلٹ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں : Chaus Publication 1414/IA, Trio Chambers, Beside Renuka Swarup High School Sandashiv Peth, Pune- 411030, Ph: (020) 24498765 E-Mail: info@chausbooks.com
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues