Al-Risala · January 2014 · page

دورِ مسائل کا خاتمہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

دورِ مسائل کا خاتمہ

قرآن کی سورہ البقرہ کے آخر میں اُس وقت کے اہل ایمان کی زبان سے ایک دُعا نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کا ایک حصہ یہ ہے: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286) یعنی اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اس دعا میں 'اِصْر' کا لفظ آیا ہے۔ اصْر کا مطلب بوجھ (burden) ہے۔ اس بوجھ سے مراد کوئی محدود بوجھ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ ناموافق عالمی حالات ہیں جو ہزاروں برس سے چلے آرہے تھے۔ اسی اصْر کو قرآن میں دوسرے مقام پر 'فتنہ' کہا گیا ہے اور حکم ہوا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) - قرآن کی مذکورہ آیت میں 'اِصْر' سے مراد قدیم شرائع نہیں، بلکہ وہ قدیم حالات ہیں جو اہلِ توحید کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جس کلچر کا عمومی طور پر دبدبہ تھا، وہ شرک اور شخصی بادشاہت کے تحت بنا تھا۔ اس کلچر نے مذہبی آزادی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اسی بنا پر پچھلے زمانے میں اہل ایمان کو ستایا گیا۔ اسی بنا پر ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کو ستایا گیا اور ان کے خلاف جنگیں چھیڑی گئیں۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ خدائی دین کے خلاف ان ناموافق اسباب کا خاتمہ ہو اور عالمی سطح پر ایسے حالات پیدا ہوں جب کہ ایک انسان پوری آزادی کے ساتھ اللہ کے دین کی پیروی کر سکے۔ اس حقیقت کو قرآن کی ایک اور آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ہُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (28:48) - قرآن کی اس طرح کی آیتوں سے مراد ایک عظیم انقلاب ہے۔ مگر اس سے مراد کوئی سیاسی یا حکومتی انقلاب نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں سے لڑ کر ' اسلامی حکومت ' قائم کرو۔ اس سے مراد مکمل طور پر ایک غیر سیاسی انقلاب ہے، یعنی ایک ایسا انقلاب جس کے بعد تمام مواقع (opportunities) اہل ایمان کے لیے کھل جائے ۔ اہل ایمان کے لیے یہ ممکن ہو جائے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page