Al-Risala · January 2014 · page 27

اسلامی حکومت کا تصور

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۷

دین توحید کی پیروی کریں اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام کر سکیں اس انقلاب سے مراد بہ اعتبار مواقع (in terms of opportunities) انقلاب ہے، نہ کہ بہ اعتبار سیاسی اقتدار (in terms of political power) انقلاب۔

اسلامی حکومت کا تصور

اسلامی حکومت یا خدائی حکومت کا تصور قرآن میں سرتاسر اجنبی (alien) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت انسان کی ہوتی ہے، نہ کہ اسلام کی۔ اس لیے قرآن میں جہاں حکومت کا ذکر ہے، وہاں اُس کو انسان سے منسوب کیا گیا ہے۔ مثلاً : اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ (22:41) - اَوَرَوَعَدَ اللهُ الَّذِيْنَ اَمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (24:55) - حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، یہ اللہ کا مطلوب ہی نہیں کہ دنیا میں ہمیشہ اہل ایمان کی حکومت قائم رہے یا لوگوں سے لڑ کر حکومت پر قبضہ کیا جائے، تا کہ دنیا میں نظام حکومت قائم کیا جا سکے۔ اِس قسم کا سیاسی نشانہ اللہ نے کبھی نہیں دیا۔ اللہ کو جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف یہ کہ عمل کے مواقع ہمیشہ کھلے رہیں ۔ ہر شخص کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ آزادانہ طور پر دین کے انفرادی تقاضوں کو پورا کر سکے۔ یہی اللہ کا اصل مطلوب ہے اور قرآن میں جو انقلاب برپا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اُس سے مراد یہی غیر سیاسی انقلاب ہے۔ اقامت نظام، اقامت مواقع اللہ کے تخلیقی پلان کے مطابق، دنیا میں جو چیز مطلوب ہے، وہ اقامت نظام نہیں، بلکہ اقامت مواقع ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک مقرر قسم کا سوشیو پولیٹکل (socio-politiclal) نظام ہے اور اہل ایمان کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس نظام کو اُس کے تمام اطراف و جوانب کے ساتھ زمین پر قائم کریں۔ دین کا یہ مبنی بر نظام تصور (system-based concept) سرتاسر ایک مبتدعانہ تصور ہے۔ اس قسم کا تصور دین صرف کچھ لوگوں کے خود اپنے ذہن کی پیدوار ہے، خدا اور رسول کے دین سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا تصور دین وہی چیز ہے جس کو مضاہات (9:30) کہا گیا ہے۔ اللہ کے نقشہ تخلیق کے مطابق، اصل مطلوب چیز یہ ہے کہ ہر قسم کے مواقع پوری طرح

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page