Al-Risala · June 2014 · page 38

تخلیق انسانی کا مقصد

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۸

اسلامی زندگی کے لیے اس کے مطابق، سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے قیام کو ضروری قرار دیا۔ ارسطو نے اس تصور (concept) کا فلسفیانہ ایڈیشن تیار کیا۔ کارل مارکس نے اس تصور کا سیکولر ایڈیشن بنایا اور سید قطب اور سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس تصور کا اسلامی ایڈیشن تیار کر دیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پچھلے ڈھائی ہزار سال کے دوران یہ نظریہ کبھی بھی واقعہ نہ بن سکا۔ کبھی کسی ملک میں ایسا نہیں ہوا کہ مصلح کے بیان کردہ نشانے کے مطابق، کوئی اجتماعی نظام یا کوئی سماجی نظام قائم ہوا- تاریخ بتاتی ہے کہ اس نظریے کے تمام علم بردار آخر کار مایوسی کی حالت میں مرے، وہ دنیا کو اپنے تصور کے مطابق، مطلوب نظام نہ دے سکے۔

اس سے بھی زیادہ تلخ بات یہ ہے کہ اس قسم کے تمام نام نہاد مصلحین کا انجام یہ ہوا کہ وہ تعمیر کے نام پر اٹھے اور دنیا کو عملاً تخریب کا تحفہ دے کر چلے گئے۔ ارسطو کے شاگرد سکندر اعظم نے ساری دنیا کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ کارل مارکس کے ماننے والوں نے اپنا مفروضہ نظام قائم کرنے کے نام پر روس میں 25 ملین انسانوں کو ہلاک کر دیا۔ سید قطب اور سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تحریک کے نتیجے میں مختلف ملکوں میں اپنے مطلوب نظام کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد (armed struggle) شروع ہوئی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔

اجتماعی اصلاح کی ان تحریکوں کا یہ منفی انجام کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی نظام کا تعلق براہِ راست سیاسی اقتدار سے ہے۔ جب بھی آپ کسی ملک میں اپنی پسند کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے لیے اٹھیں گے تو وہاں لازماً اُن لوگوں سے آپ کا ٹکراؤ پیش آئے گا جو بروقت سیاسی اقتدار پر قابض ہیں۔ اس طرح اجتماعی نظام کا نظریہ اول دن سے ٹکراؤ کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ سیاسی ٹکراؤ کوئی سادہ بات نہیں۔ سیاسی ٹکراؤ کا طریقہ عین اپنے نتیجے کے طور پر انسان کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اسلام کے پولٹیکل مفسرین کے الفاظ میں، ایک ’’طاغوت‘‘ اور دوسرے، مخالف طاغوت۔ مخالف طاغوت گروہ اپنی تحریک کو پہلے قائم شدہ حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page