Al-Risala · January 2014 · page

اسلامی حکومت کا تصور

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

کھلے ہوئے ہوں، ہر انسان کو مکمل آزادی ہو کہ وہ دین کے معاملے میں جس طرح چاہے اپنی قوتوں کو استعمال کرے۔ قدیم زمانے میں جارحانہ شرک، مذہبی جبر اور استبدادی حکومت (despotism) کا نظام قائم تھا۔ ہزاروں سال کی روایات کے نتیجے میں یہ ذہن لوگوں کے اوپراسس طرح چھا گیا کہ وہ اس کے خلاف سوچ نہیں پاتے تھے۔ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کو جو انقلاب برپا کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ یہ تھا کہ جدوجہد کرکے اس دور کو ختم کرو اور وہ حالات برپا کرو جب کہ ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے اور ہر ایک کے لیے تمام مواقع یکساں طور پر کھل جائیں۔

پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے ساتویں صدی میں جو انقلاب آیا، اُس کی اصل حقیقت یہی تھی ۔ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، حکومت یا خلافت قائم کرنا نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ ہدایت کے تمام مواقع تمام انسانوں کے لیے کھل جائیں، دین خداوندی کے معاملے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اسلام کے دورِ اول میں پیش آنے والا یہی وہ انقلابی واقعہ ہے جس کا ذکر فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہے— اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ روایتی دورِ تاریخ کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اِس معاملے میں اللہ تعالیٰ کو جو انقلاب مطلوب تھا، وہ ایک نسل یا دو نسل میں انجام نہیں پا سکتا تھا، اس لیے اِس انقلاب کو تاریخ میں ایک پر اس کے روپ میں جاری کیا گیا۔ مزید یہ کہ اس عمل میں صرف مسلمان نہیں، بلکہ سیکولر قو میں بھی شریک ہوئیں۔ اِس طرح یہ تاریخی عمل چلتا رہا۔ آخر کار انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مغرب میں اس کی تکمیل ہوئی ۔ موجودہ مغربی تہذیب اِسی عمل کا نقطۂ انتہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے تاریخ میں پہلی بار ایسا کیا ہے کہ جو دنیا مسائل سے بھری ہوئی تھی، وہ ہر اعتبار سے کھلے ہوئے مواقع میں تبدیل ہو گئی۔

دین کا اصل مطلوب یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری اجتماعی نظام بنایا جائے ۔ معیاری معاشرہ یا معیاری اجتماعی نظام کی جگہ جنت ہے، نہ کہ موجودہ زمین۔ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا میں جو چیز مطلوب ہے، وہ انفرادی سطح پر شخصیت کی تعمیر ہے، یعنی ایسے افراد کا وجود میں آنا جو اپنے اعلیٰ اوصاف کے اعتبار سے، جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page