Al-Risala · June 2014 · page 46

ردِ عمل کی سیاست

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۴۶

ردِ عمل کی سیاست

بیسویں صدی عیسوی میں تمام دنیا کے مسلمانوں کے اندر ایسی تحریکیں اٹھیں جن کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے سیاسی اور قانونی نظام کو قائم کیا جائے۔ عرب دنیا میں سید قطب (وفات: 1966)، برصغیر ہند میں سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) انڈونیشیا میں عبدالقہار مذکر (وفات: 1965)، سوڈان میں حسن ترابی (پیدائش: 1932) اس کی مثالیں ہیں۔ ان لوگوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے مسلمانوں میں سیاسی احیا (political revival) کی کوشش کی۔

اس قسم کی سیاسی تحریکیں، سب کی سب، ردِ عمل (reaction) کی تحریکیں تھیں۔ وہ نو آبادیاتی دور (colonial age) کے خلاف ردعمل کے طور پر پیدا ہوئیں۔ وہ اصلاً قومی سیاسی تحریکیں تھیں، لیکن اُن کو مسلمانوں کے درمیان اس لیے مقبولیت حاصل ہوگئی، کیوں کہ اُن کے رہنماؤں نے انھیں اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کیا تھا۔

جس زمانے میں نو آبادیاتی طاقتوں کا ظہور ہوا، اُس زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں مسلم سلطنتیں قائم تھیں ۔ برصغیر ہند میں مغل سلطنت، ترکی اور عرب ممالک میں عثمانی سلطنت، وغیرہ۔ اسی طرح ایشیا اور افریقہ کے بیش تر علاقے، مسلم سلطنت کے تابع تھے۔ نو آبادیاتی طاقتیں جب مسلم دنیا میں داخل ہوئیں تو اُس وقت کی مسلم سلطنتوں نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن فوجی اور اقتصادی اعتبار سے نو آبادیاتی طاقتوں (colonial powers) کو برتری حاصل تھی، اس لیے ہر میدان میں وہ غالب آتی چلی گئیں ۔ یہ صورت حال، مسلم رہ نماؤں کے لیے نا قابل برداشت تھی، چناں چہ وہ ان کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ یہ جدوجہد ابتداء غیر مسلح انداز میں شروع ہوئی۔ مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لٹریچر تیار کر کے اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔ اس لٹریچر میں اسلام کو اس حیثیت سے پیش کیا گیا تھا کہ اسلام کے وجود وبقا کے لیے سیاسی غلبہ لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم دوبارہ اسلام کو سیاسی اعتبار سے غالب کرنے کی کوشش کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page