اپنی تاریخ سے کٹنا
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۵۲
دار المصنفین کے بانی (founder) نہیں تھے۔ مزید یہ کہ اس مشورے میں یہ بات واضح نہ تھی کہ دار المصنفین چھوڑنے کا نقصان کیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات تھی کہ یہ مشورہ مولانا سید سلیمان ندوی کے مائنڈ کو ایڈریس نہ کرے اور وہ ان کے لیے قابل قبول نہ ہو سکے۔ اصل یہ ہے کہ مولانا سید سلیمان ندوی کا دار المصنفین چھوڑ نا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ خود اپنی بنائی ہوئی تاریخ کو چھوڑنے کے ہم معنی تھا، اور کوئی بھی شخص اپنی بنائی ہوئی تاریخ کو چھوڑنے کا متحمل نہیں کر سکتا۔ لوگوں کی نظر میں انسان کی حیثیت اس کی تاریخ سے متعین ہوتی ہے اور تاریخ ہمیشہ کسی ماحول میں بنتی ہے۔ جو آدمی اپنے ماحول کو چھوڑ دے، اس نے اپنی بنائی ہوئی تاریخ کو چھوڑ دیا۔ کوئی بھی دوسری چیز اس غلطی کی تلافی نہیں کر سکتی۔
مولانا سید سلیمان ندوی 33 سال دار المصنفین میں رہے۔ اس 33 سال میں انھوں نے اپنی علمی تاریخ بنائی، لیکن اگر تو سیعی اعتبار سے دیکھیے تو یہ مدت اور زیادہ لمبی ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی وابستگان شبلی کی حیثیت سے 1907 میں نمایاں ہوئے۔ یہ وہ سال ہے جب کہ مولانا شبلی ندوۃ العلما (لکھنو) میں تھے اور مولانا سید سلیمان ندوی ان کے شاگرد تھے۔ اُس وقت ندوہ میں ایک سالانہ جلسہ ہوا۔ اس موقع پر مولانا سید سلیمان ندوی نے عربی میں ایک برجستہ تقریر کی۔ اس تقریر سے مولانا شبلی نعمانی اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ انھوں نے عین جلسہ گاہ میں اپنے سر کی پگڑی اتار کر مولانا سید سلیمان ندوی کے سر پر رکھ دی۔ (ملاحظہ ہو: حیاتِ سلیمان، صفحہ 28-27)۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو مولانا سید سلیمان ندوی کی علمی تاریخ 1907 سے شروع ہوتی ہے۔ گویا کہ 1946 میں جب سید صاحب نے دار المصنفین کو چھوڑا تو اُن کی علمی تاریخ کی مدت تقریباً 40 سال ہو چکی تھی ۔ یہ چالیس سالہ تاریخ مولانا سید سلیمان ندوی کا سب سے بڑا سرمایہ تھی ۔ وہ اگر دار المصنفین میں رہتے تو وہ اپنی اس 40 سالہ تاریخ کے درمیان رہتے۔ اُن کی ہر تقریر اور تحریر میں اس 40 سالہ تاریخ کا وزن شامل رہتا، مگر انھوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور خود اپنی تاریخ سے اپنے آپ کو کاٹ لیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ اُن کے لیے جو رول مقدر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues