کامیاب طریقہ کار
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۱۰
کامیاب طریقہ کار
ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : عن سهل بن سعد الساعدي، قال: أتى النبي صلى اللہ علیہ وسلم رجل، فقال، یا رسول الله دلني علی عمل إذا أنا عملته احبني الله وأحبني الناس؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما في أيدي الناس يحبك الناس (ابن ماجه، رقم الحديث : 4102) یعنی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے ایک ایسا عمل بتائے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو میں اللہ کا محبوب بن جاؤں اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے معاملے میں تم زاہد بن جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے، اس کے معاملے میں تم زاہد بن جاؤ تو لوگ تم سے محبت کریں گے۔ اس حدیث رسول میں ’زہد‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ زہد کا لفظی مطلب بے رغبتی (indifference) ہے، یعنی دلچسپی نہ رکھنا، بے تعلق ہو جانا۔ دنیا سے بے رغبتی کا مطلب دنیا کو عملاً چھوڑ نا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں رہے، لیکن قلبی تعلق کے اعتبار سے، وہ آخرت سے جڑا ہوا ہو۔ جس آدمی کے اندر زہد کی یہ صفت ہوگی، اس کے اندر فطری طور پر ایک نئی شخصیت پیدا ہوگی۔ اپنی سوچ اور اپنے قول و عمل کے اعتبار سے وہ عام دنیا داروں سے مختلف ہو جائے گا۔ اس کے اندر وہ اخلاقی اور روحانی اوصاف پیدا ہوں گے جو خدا پرستانہ زندگی کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ جو آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ وہ اُن سے پانے کی امید رکھتا ہو، وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن جائے گا۔ لوگ ایسے آدمی کو عزت دیتے ہیں جو اُن کو اپنے آپ سے اونچا دکھائی دے۔ حریص آدمی کبھی دوسروں سے اونچا نہیں ہوتا، اس لیے وہ دوسروں کی نظر میں قابلِ عزت بھی نہیں ہوتا۔ بے غرضی کی روش آدمی کو لوگوں کے درمیان با عزت بناتی ہے اور خود غرضی کی روش آدمی کو دوسروں کی نگاہوں میں ذلیل کر دیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues