Al-Risala · July 2014 · page 43

اپنے آپ پر نظر ثانی

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۴۳

پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہا جا سکتا ہے۔ اجتماعیات میں چوں کہ معاملے کے فریق ایک سے زیادہ ہو جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اجتماعیات میں دوسروں کی رعایت کی جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں غیر ضروری ٹکراؤ ہوگا اور اُس کے نتیجے میں مختلف قسّم کے مسائل پیدا ہوں گے۔

لیکن جہاں تک عقیدے یا نظریے کا معاملہ ہے، اُس میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معیار پسند ہو۔ وہ اپنی سوچ کو انتہائی حد تک خالص بنائے، ذاتی سوچ کے معاملے میں وہ کم تر از معیار (less than ideal) کو برداشت نہ کرے، یعنی اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسند (idealist) ہونا اور دوسروں کے معاملے میں عملی (practical) بن جانا۔ 2۔ کسی شخص کی تردید یا نفی کی بات میں نے کبھی نہیں کہی۔ کسی شخص کے نقطہ نظر میں جو بات قرآن وسنت کے خلاف ہو، اُس کا تجزیہ قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں کرنا، یہی میرا طریقہ ہے۔ اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ناقد وہ طریقہ اختیار کرے جس کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے عیب مے جملہ بہ گفتی ہنرش نیز بگو۔ یہ طریقہ بذات خود درست ہو سکتا ہے، لیکن وہ داعی کا طریقہ نہیں۔ داعی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ذہنی انقلاب لایا جائے۔ اس بنا پر داعی ہمیشہ کسی ایک چیز پر فوکس دیتا ہے۔ تنقید کے معاملے میں اصل شرط یہ نہیں ہے کہ ناقد قابل تنقید اجزا کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ زیر تنقید شخص کی خوبیوں کا ذکر بھی کرے، یہ شرط غیر عملی ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ناقد عناد (malice) کی نفسیات سے پاک ہو۔ اس کی ساری توجہ صرف زیر تنقید شخص کے فکری انحراف پر ہو، نہ کہ اُس چیز پر جس کو ذاتیات کہا جاتا ہے۔

میرے نزدیک نقدِ صحیح یقینی طور پر ایک جائز کام ہے، لیکن معاندانہ اظہار خیال کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں۔ نقدِ صحیح پر ایک شخص کو اللہ کے یہاں انعام مل سکتا ہے، لیکن معاندانہ اظہارِ خیال ایک ایسی چیز ہے جس پر آخرت میں سخت مواخذے کا اندیشہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page