اپنے آپ پر نظر ثانی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۴۴
سوال
پ ہیں، کیا اس کی رُو سے یہ بات درست ہے؟ یا یہ کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟ واضح فرمائیں۔ (ایک قاری الرسالہ، مہاراشٹر)
جواب
دین کی سیاسی تعبیر بلا شبہ بلا شبہ ایک غلط تعبیر ہے ۔ وہ بلا شبہ تفسیر بالرائے کی ایک صورت ہے ۔ دین کی سیاسی تعبیر نظری اعتبار سے ایک غلط تعبیر ہے اور عملی اعتبار سے وہ ایک تباہ کن نظریے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دین کی سیاسی تعبیر میں تشدد ایک لازمی جز کی حیثیت رکھتا ہے۔ دین کی سیاسی تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اسلام کی بنیاد پر سیاسی حکومت قائم کریں ۔ حکومت ایک ایسا ادارہ ہے جس پر کسی کا قبضہ ہوتا ہے، اس لئے قائم شدہ اقتدار کو ختم کیے بغیر اسلامی حکومت قائم نہیں کی جاسکتی ۔
دین کی سیاسی تعبیر کا یہی وہ منفی پہلو ہے جس کی بنا پر اول دن سے تشدد اس کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک ، دین کی سیاسی تعبیر اپنے نتیجے کے اعتبار سے ایک نزاعی تعبیر ہے:
Political interpretation of Islam in terms of result is confrontational interpretation of Islam. اس موضوع پر تفصیلی مطالعے کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں: تعبیر کی غلطی، دین کی سیاسی تعبیر، اس رُوح پرستی کو، جو مادیت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی ہے، دین وشریعت۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام مادہ پرستی کے تاریک اور خطرناک ماحول کو دعوتی مقاصد کے لیے بہار اور جھارکھنڈ کے قارئین کے الرسالة حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں:
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues