Al-Risala · January 2014 · page

ٹیم اسپرٹ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

والے۔ گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ خالص اللہ کے کاز (cause) کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے۔ اس معاملے کو مزید واضح کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو۔ اللہ کے مشن کی خاطر صرف اللہ کے لیے باہم مجتمع ہو جائیں، جن کی ٹیم اسپرٹ اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ ٹیم کا ہر فرد اُن کے لیے ایک محبوب ساتھی بن جائے۔

دعوت کا عالمی نشانہ صرف ٹیم ورک کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے اور کسی مادی انٹرسٹ کے بغیر ٹیم ورک ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ٹیم ورک کا مطلب اجتماعی ورک ہے اور اجتماعی زندگی میں لازماً شکایت اور اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں صرف اعلی درجے کی محبت الہی یا تعلق باللہ ہی آدمی کو مشن سے وابستہ رکھ سکتا ہے۔

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں ایک جنگ پیش آئی جس کو تاریخ میں جنگ یرموک (13 ہجری) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں اہلِ ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس جنگ میں خالد بن الولید سپہ سالار تھے۔ جنگ کے آخری مرحلے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کسی وجہ سے خالد بن الولید کو سپہ سالاری کے منصب سے ہٹا دیا اور ان کو عام سپاہی کا درجہ دے دیا۔ فوج کے کچھ لوگ خالد بن الولید سے ملے اور اس واقعے پر اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ خالد بن الولید نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: إنی لا أقاتل في سبيل عمر، ولكن أقاتل في سبيل رب عمر (یعنی میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا، بلکہ میں عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتا ہوں)۔

عالمی دعوتی مشن بہت بڑا دعوتی مشن ہے۔ اس قسم کا مشن صرف ایسے لوگوں کے ذریعے کامیابی کے ساتھ انجام پا سکتا ہے جو پورے معنی میں ٹیم اسپرٹ کے ساتھ اکٹھا ہوئے ہوں۔ دعوتی مشن ایک ایسا مشن ہے جس میں کسی بھی قسم کا مادی یا ذاتی انٹرسٹ شامل نہیں۔ دعوتی ٹیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر مادی انٹرسٹ کا کوئی بدل موجود ہو۔ یہ بدل صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کے ساتھ غیر متزلزل محبت۔ اللہ سے یہی گہرا تعلق اس بات کا ضامن

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page