Al-Risala · August 2014 · page 4

قرآن: کتابِ فطرت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴

اولین نسخے کی کامل نقل ہوتے ہیں۔ محققین (scholars) نے لمبی تحقیق کے بعد اعتراف کیا ہے کہ قرآن کے متن میں ایک آئیوٹا (iota) کے بقدر بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔

اللہ تعالیٰ نے حفاظتِ قرآن کا یہ اہتمام اس لیے کیا کیوں کہ اگر قرآن کے متن میں ادنی تغیر ہوجائے تو لوگوں کی نظر میں قرآن کا استناد (credibility) مشتبہ ہو جائے گی۔ 3۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ساتھ ایک اور خصوصی معاملہ کیا اور وہ تھا قرآن کی تاریخ کا تحفظ۔ قرآن کی تاریخ ہر جزئی اور کلی اعتبار سے پوری طرح محفوظ ہے۔ اس پر عربی زبان میں باقاعدہ کتابیں موجود ہیں۔ قرآن کی یہ تاریخ اتنی مکمل صورت میں لکھی گئی ہے کہ آج جو شخص ان کتابوں کو پڑھے، وہ پوری طرح جان لے گا کہ قرآن کی حفاظت کا تاریخی اہتمام کس طرح کیا گیا ہے۔ 4۔ یہی معاملہ قرآن کے معنی اور مفہوم کا ہے۔ مسلم اہلِ علم نے کثرت سے قرآن کی تفسیریں لکھیں اور قرآن سے متعلق علوم پر کتابیں تیار کیں۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ قرآن کی آیتوں کے معنی پوری طرح معلوم اور محقق ہو گئے۔ یہ واقعہ بھی قرآن کی حفاظت کا ایک حصہ ہے۔ قرآن کے الفاظ جس طرح محفوظ کیے گئے، اُسی طرح قرآن کے الفاظ کے معانی بھی محفوظ کیے جاتے رہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو محفوظ متن کی موجودگی میں بھی قرآن ایک نا قابل فہم مجموعہ بن جاتا۔ لوگ قرآن کے عربی الفاظ کو پڑھتے، لیکن وہ قرآن کے معنی ومفہوم سے بے خبر رہتے۔

مثال کے طور پر قرآن کی پہلی سورہ میں دین (1:4) کا لفظ آیا ہے۔ اسی طرح قرآن کی سورہ یوسف میں بھی دین (12:76) کا لفظ آیا ہے۔ دونوں جگہ لفظ ایک ہے، مگر دونوں جگہ لفظ کے معنی مختلف ہیں، اور یہ فرق تواتر کے ذریعے پوری تاریخ میں منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ وہ آج کے لوگوں تک پہنچ گیا، وغیرہ۔

قرآن کے معنی کا یہ تحفظ بہت ضروری تھا۔ اگر یہ تحفظ موجود نہ ہوتا تو قرآن کے معانی کو سمجھنے میں بہت زیادہ اختلافات ہوتے۔ یہاں تک کہ یہ بھی ممکن تھا کہ قرآن کا عربی متن موجود ہو، اس کے با وجود قرآن ایک نا قابل فہم کتاب بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page