قرآن اور فیصلہ الہی
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۵
قرآن اور فیصلہ الہی
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کے لیے اللہ نے مقدر کر دیا ہے کہ اس میں باطل نہ اس کے آگے سے داخل ہو سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ خدائے حکیم اور حمید کی طرف سے اتارا گیا ہے ۔ (41:42)
اس آیت میں آگے (before) سے مراد قرآن کے الفاظ ہیں اور پیچھے (behind) سے مراد ان الفاظ کے معانی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں نہ کوئی لفظی تبدیلی (change in words) ممکن ہے اور نہ کوئی معنوی تبدیلی (change in meaning)۔ قرآن کے تحفظ کے بارے میں اس فیصلہ الہی کا تقاضا ہے کہ قرآن اول دن سے لے کر قیامت تک ان دونوں پہلوؤں کے اعتبار سے، کامل طور پر انٹیکٹ (intact) رہے۔ کسی ادنی وقفہ (gap) کے بغیر قرآن کی یہ محفوظیت مسلسل طور پر باقی رہے۔
یہ بات قرآن کے لفظ اور معنی دونوں کے اعتبار سے، یکساں طور پر مطلوب ہے۔ قرآن کا لفظ جس طرح تاریخ میں کسی انقطاع کے بغیر منتقل ہو رہا ہے، اسی طرح اس کا مفہوم بھی تاریخ میں کسی انقطاع کے بغیر کامل صحت کے ساتھ منتقل ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ قرآن کے بارے میں اللہ کا منصوبہ مکمل نہ ہوسکا، جو کہ بلاشبہ ناممکن ہے۔ قرآن بظاہر ایک کتاب ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک فیصلہ خداوندی ہے۔ قرآن اللہ اور بندے کے درمیان برہان (4:174) ہے۔ برہان کا مطلب حجت ہے۔ دوسرے الفاظ میں، قرآن ایک مستند دستاویز (authoritative document) ہے۔
قرآن میں پیشگی طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ انسان سے اللہ کو کیا مطلوب ہے اور کس بنیاد پر انسان کے لیے ابدی عذاب یا ابدی انعام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ قرآن کی اس نوعیت کا تقاضا ہے کہ قرآن اپنے لفظ اور اپنے معنی دونوں اعتبار سے، کامل طور پر محفوظ رہے۔ قرآن کی یہ محفوظیت کسی جنگل میں یا کسی پہاڑ پر نہیں ہو سکتی۔ قرآن کی محفوظیت لازمی طور پر انسانوں کے درمیان ہوگی۔ ایسی حالت میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues