Al-Risala · August 2014 · page 6

تعبیر و تفسیر یا تحریف

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۶

قرآن کی لفظی اور معنوی حفاظت کا معیار وہی ہوگا جو دوسری کسی انسانی کتاب کا ہو سکتا ہے اور علمی تاریخ کے مطابق، وہ معیار یہ ہے کہ کتاب کے الفاظ اور اس کے معانی کا استعمال انسانوں کی ایک بڑی جماعت کے درمیان نسل در نسل (generation after generation) جاری رہے، تاریخ کے کسی بھی لمحے میں لوگوں کے درمیان ان کا تسلسل نہ ٹوٹے۔

تعبیر و تفسیر یا تحریف

قرآن کا عربی متن (text) محفوظ حالت میں ہر جگہ موجود ہے۔ کسی بھی صاحب علم آدمی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ آبجیکٹیو (objective) انداز میں مطالعہ کر کے قرآن کے معنی میں نئے پہلوؤں کی نشان دہی کرے۔ قرآن کی بنیادی تعلیم ایک ہے اور وہ ہمیشہ ایک رہے گی، لیکن قرآن کی آیتوں میں نئے پہلوؤں کی دریافت ہمیشہ جاری رہے گی، جیسا کہ خود حدیث میں قرآن کے بارے میں آیا ہے: لا تنقضي عجائبه (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2906) یعنی قرآن کے عجائب (wonders) کبھی ختم نہ ہوں گے۔

لیکن اس مطالعہ قرآن کی دو صورتیں ہیں—ایک ہے تعبیر (interpretation) کا طریقہ اور دوسرا ہے، تحریف (distortion) کا طریقہ—قرآن میں نئی تعبیرات کی گنجائش ہمیشہ باقی رہے گی، لیکن تحریف کی گنجائش یقینی طور پر نہیں۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں کچھ مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر قرآن میں اہل جہنم کے بارے میں آیا ہے کہ : قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (74:43) - قرآن کی اس آیت میں ’مصلین‘ کا لفظ آیا ہے، لیکن یہاں صلوۃ کی عملی صورت کا ذکر نہیں ہے، اب اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں ’مصلین‘ سے مراد پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے لوگ ہیں تو یہ ایک جائز تعبیر و تفسیر ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس آیت میں ’مصلین‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سماجی تنظیم (social organization) میں شامل تھے، تو یہ آیت کی ایک محرّف (distorted) تشریح ہوگی جو علمی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page