Al-Risala · August 2014 · page 7

قرآن اور لسانیات

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۷

اس معاملے کی ایک اور مثال لیجئے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) یعنی خدا نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے، تا کہ تم اُن پر سوار ہو اور زینت کے لیے بھی، اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔ قرآن کی اس آیت میں انسان کے بری سفر اور برّی سفر کا ذکر ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ویخلق ما لا تعلمون، کے الفاظ میں ہوائی سفر کا ذکر ہے جس کی ٹیکنالوجی بوقت نزول قرآن نیچر میں موجود تھی اور بعد کو انسان اس مخفی ٹیکنالوجی کو دریافت کر کے ہوائی جہاز بنانے والا تھا اور بحری اور بحری سفر کے علاوہ ہوائی سفر کا بھی اس میں اضافہ کرنے والا تھا۔ اگر کوئی شخص قرآن کی اس آیت کی یہ تفسیر کرے تو وہ ایک جائز تفسیر ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ویخلق ما لا تعلمون، کے الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی ایک اور آتشی مخلوق ہے جو ستاروں کی دنیا میں رہتی ہے تو یہ بلا شبہ ایک بے بنیاد تعبیر و تفسیر ہوگی جو علمی طور پر ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کے بارے میں اللہ کا یہ فیصلہ پوری طرح واقعہ بنا۔ یہی وجہ ہے کہ نزولِ قرآن کے چودہ سو سال بعد آج بھی بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے درمیان قرآن کے الفاظ اور اس کے معانی دونوں اُسی طرح معلوم اور مالوف ہیں جیسا کہ وہ نزول قرآن کے وقت تھے۔ اس درمیان میں نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ غیر مسلم اہلِ علم نے قرآن کا گہرا مطالعہ کیا اور غیر مشتبہ طور پر اس کو سمجھتے رہے۔ قرآن کے بارے میں لوگوں کی اس معرفت (understanding) کی تصدیق انسانوں کے ذریعے براہ راست بھی کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ قرآن کے موضوع پر لکھی ہوئی بے شمار کتابیں دنیا بھر کے کتب خانوں میں موجود ہیں، ان کتابوں کا مطالعہ بھی قرآن کے بارے میں مذکورہ حقیقت کی بالواسطہ تصدیق کرتا ہے۔

قرآن اور لسانیات

زبان (language) انسان کی ایک امتیازی صفت ہے۔ تمام حیوانات میں انسان واحد مخلوق ہے جو سوچتا ہے اور پھر اپنی سوچ کو نطق (speech) کی صورت میں بیان کرتا ہے۔ نطق کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page