قرآن اور لسانیات
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۸
اس صلاحیت کا اظہار ہمیشہ الفاظ کے ذریعے ہوتا ہے، مگر الفاظ کوئی جامد (static) چیز نہیں۔ جس طرح انسان کے اندر فکر کا عمل (thought process) ہمیشہ ارتقا کرتا رہتا ہے، اسی طرح زبان میں بھی ہمیشہ ارتقا کا عمل جاری رہتا ہے۔ فکر اور زبان دونوں یکساں طور پر ارتقا پذیر حقیقتیں ہیں، نہ کہ جامد حقیقتیں۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں انسان نے جنگلوں میں ایک حیوان کو دریافت کیا جو کہ انسانی سواری کے لیے نہایت موزوں تھا۔ انسان نے اپنی زبان میں اس کو گھوڑا (horse) کا نام دیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ارتقا ہوا اور گھوڑے کے ساتھ گاڑی کا تصور شامل ہوا۔ اب ایک نئی سواری وجود میں آئی جس کو گھوڑا گاڑی (horse cart) کہا جانے لگا۔ اس طرح گھوڑے کے لفظ میں ایک استعمالی اضافہ ہوا۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں مزید ترقی ہوئی اور انسان نے بھاپ کی طاقت (steam power) کو دریافت کیا۔ اب بھاپ کی طاقت کو بتانے کے لیے گھوڑے کے لفظ کا ایک نیا استعمال وجود میں آیا جس کو ہارس پاور (horse power) کہا جاتا ہے۔ ان تینوں الفاظ میں ایک مشترک مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود تینوں کے معنی الگ الگ ہیں، اور یہ الگ الگ مفہوم انسانوں کے درمیان ان الفاظ کے استعمال سے تدریجی طور پر بنا ہے۔
یہی ہر زبان کا معاملہ ہے۔ ہر زبان میں لفظ کے اصلی مفہوم کے ساتھ ہمیشہ اس کے استعمالی مفاہیم پائے جاتے ہیں، اور یہ استعمالی مفہوم اہل زبان کے درمیان اُن کے مسلسل لکھنے اور بولنے سے زبان کا حصہ بنتے ہیں۔ اہل زبان کے درمیان کسی انقطاع کے بغیر جاری اس عمل کو لسانی تواتر (linguistic continuation) کہا جاتا ہے۔
دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی یہی عمل پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عربی زبان کا ایک لفظ کایز کو ہے۔ اس لفظ کا ابتدائی مفہوم بڑھنا (to flourish) ہے۔ اس لحاظ سے یہ لفظ جمود کی ضد ہے۔ پہلے یہ لفظ اپنے ابتدائی مفہوم میں استعمال ہوتا تھا، لیکن اسلام میں جب مال کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی تعلیم آئی تو معنوی قربت کی بنا پر اس کے لیے زکوۃ کی اصطلاح اختیار کی گئی۔ کیوں کہ اسلام کا تصور یہ ہے کہ انفاق کا مطلب صرف خرچ نہیں، بلکہ اس سے مال میں اضافہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues