قرآن اور لسانیات
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۹
ہوتا ہے، وہ مال میں برکت کا ذریعہ ہے۔
اسی طرح اسلام میں ایک اور تعلیم آئی جس کا مقصد یہ تھا کہ انسان کے اندر روحانی ارتقا (spiritual development)لایا جائے، انسان کی فطرت میں چھپے ہوئے روحانی امکان کو انفولڈ (unfold)کیا جائے۔ اس مفہوم کے لیے بھی قریب تر لفظ یہی تھا۔ چناں چہ اس عمل کو تزکیہ کہا گیا۔ اس مفہوم کے اعتبار سے تزکیہ کا لفظ اسلام کا ایک اصطلاحی لفظ بن گیا اور اس معنی میں وہ لوگوں کے درمیان استعمال ہونے لگا۔ تقریر و تحریر کے متواتر استعمال سے تزکیہ کا یہ اصطلاحی مفہوم پوری طرح معلوم اور متعین ہوگیا، حتی کہ اب اہل زبان اور اہل علم کے درمیان اس لفظ کے اصطلاحی مفہوم پر کوئی اشتباہ موجود نہیں۔ یہی مثال پورے قرآن پر صادق آتی ہے۔ قرآن کا متن عربی زبان میں ہے۔ قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں۔ قرآن میں استعمال ہونے والے عربی الفاظ کی تعداد 86430 شمار کی گئی ہے۔ یہ الفاظ کہیں اپنے اصلی معنی کے اعتبار سے ہیں اور کہیں استعمالی معنی کے اعتبار سے اور کہیں قرآن کی اپنی اصطلاح کے اعتبار سے۔ قرآن کے عربی الفاظ کے یہ تمام مفاہیم تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، یہ مفاہیم غیر مشتبہ طور پر معلوم ہیں۔ چودہ سو سال کی مدت میں اہل زبان اور اہل علم کے درمیان متواتر استعمال کے نتیجے میں ان الفاظ کا مفہوم غیر مشتبہ طور پر متعین ہوگیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآنی الفاظ کے ان ثابت شدہ استعمالی مفاہیم کو نہ مانے، تو اس کا کیس علم کا کیس نہیں، بلکہ اس کا کیس ایک بدیہی امر کے انکار کا کیس ہے اور ایسے انکار کی علم اللسان کے اعتبار سے بلاشبہ کوئی قیمت نہیں۔ زبان اور اس کا استعمال زبان (language)کیا ہے۔ زبان ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان تبادلہ خیال کا ذریعہ ہے۔ زبان کا بنیادی عمل خیالات کا اظہار (expression of thought)ہے۔ (E.B:/10/643)
ہر زبان ابتداء صرف بول چال کی زبان (dialect)ہوتی ہے، پھر استعمال کے دوران دھیرے دھیرے وہ لکھنے کی زبان بنتی ہے۔ مثلاً انگریزی زبان ہزار سال پہلے صرف بول چال کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues