قرآن اور لسانیات
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۰
زبان تھی۔ اس کے بعد وہ ترقی کر کے لکھنے کی زبان بنی۔ ابتدا میں انگریزی زبان کے الفاظ کی تعداد بہت کم تھی، جب کہ اکیسویں صدی میں انگریزی زبان کے الفاظ کی تعداد بڑھتے بڑھتے ایک ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔
کسی زبان میں الفاظ کا اضافہ بنیادی طور پر دو طریقے سے ہوتا ہے۔ ایک ہے خارجی کلچر کے اختلاط سے زبان کے الفاظ میں اضافہ ہونا۔ مثلاً کیلنڈر (calendar) اصلاً لاطینی زبان کا لفظ (calendarium) تھا۔ اس کے بعد وہ انگریزی میں شامل ہو کر انگریزی زبان کا حصہ بن گیا۔ الفاظ کا یہ اضافہ ہر زبان میں ہوتا ہے اور مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ زبان میں الفاظ کے اضافے کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو استعمال (usage) کے ذریعے ہوتا ہے۔ تقریباً ہر لفظ کے معنی میں استعمال کے ذریعے اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر زبان میں ہوتا ہے۔ کسی بھی زبان کی ڈکشنری کو دیکھ کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح الفاظ کے مفہوم میں اضافے کا یہ عمل جاری رہتا ہے۔ کسی لفظ کے ابتدائی معنی کو لغوی معنی کہا جاتا ہے اور اس کے اضافہ شدہ معنی کو استعمالی معنی - لفظ کے معنی میں استعمال کی بنا پر اضافے کی ایک صورت وہ ہے جس کو اصطلاح (term) کہا جاتا ہے۔ ہر زبان میں یہ اصول رائج ہے۔ اس پر باقاعدہ ڈکشنریاں بنائی گئی ہیں جن میں الفاظ کے اصل معنی کے ساتھ اس کے اصطلاحی معنی بھی بتائے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر انگریزی زبان میں ایک لفظ گیس (gas) ہے۔ لفظ گیس کا ابتدائی مفہوم انتشار (chaos) تھا۔ بعد کو یہ لفظ اصطلاح بن کر گیس کے موجودہ کیمیاوی معنی میں استعمال ہونے لگا۔ گیس کی یہ اصطلاح سترھویں صدی عیسوی میں بنی۔ بلجیم کے ایک سائنس داں وان ہیل مانٹ نے گیس کے لفظ کو کیمسٹری کی ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کیا:
“Gas” formed in the 17th century by the Belgian chemist and physician Jan Baptist Van Helmont (1577-1644) as a technical term in chemistry. (EB:10/652)
اسی طرح لفظ کے استعمالی معنی کی ایک مثال وہ ہے جس کو مجازی معنی (metaphor)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues