Man was born free, but I see him in chains.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۱
کہا جاتا ہے۔ الفاظ کو مجازی معنی میں استعمال کرنے کا طریقہ ہر زبان میں کثرت سے رائج ہے۔ کوئی لفظ جب مجازی معنی میں استعمال ہو تو لفظ اگر چہ اپنی ہیئت کے اعتبار سے وہی رہتا ہے، لیکن باعتبار استعمال اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً ایک بہادر آدمی کو اگر یہ کہا جائے کہ تم شیر ہو تو شیر کا لفظ اگر چہ وہی رہے گا، لیکن اس کے معنی میں ایک نیا مفہوم شامل ہو جائے گا۔ اب وہ لفظ اپنے اصلی معنی کے بجائے اپنے مجازی معنی کے اعتبار سے مراد ہوگا۔
اس معاملے کی ایک مثال فرانسیسی فلاسفر روسو (Jean Jacques Rousseau) کی کتاب ہے۔ اس کتاب کا فرانسیسی نام یہ تھا کنٹرات سوشیال (Contrat Social)۔ یہ کتاب فرانسیسی زبان میں 1762 میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد اس کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس نام سے کیا گیا۔ سوشل کنٹریکٹ (Social Contract)۔ روسو کی یہ کتاب حسب ذیل جملے سے شروع ہوتی ہے انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں دیکھتا ہوں:
Man was born free, but I see him in chains.
اس جملے میں زنجیر (chain) کا لفظ اپنے اصلی معنی کے اعتبار سے استعمال نہیں ہوا ہے، بلکہ وہ اپنے مجازی معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں روسو کے لفظ کو مجازی معنی کے اعتبار سے نہیں لوں گا، بلکہ میں اس کو اس کے لغوی معنی کے اعتبار سے لوں گا، تو روسو کا یہ جملہ بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ کیوں کہ روسو کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انسان حقیقی معنوں میں لوہے کی زنجیروں میں بندھا ہوا ہے۔ روسو نے اس لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کیا تھا، یعنی سیاسی زنجیر یا سیاسی بندھن کے معنی میں۔ اصطلاح سازی کا یہ طریقہ ہر زبان میں بلا اختلاف رائج ہے۔ ہر زبان میں ہر موضوع پر بے شمار اصطلاحات وضع ہوئی ہیں جو مسلسل طور پر کتابوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ علم کی ترقیاں اصطلاح سازی کے اسی اصول پر قائم ہیں۔ ہر موضوع کی کتابیں اس قسم کی اصطلاحات سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں لفظ کے اصطلاحی معنی کو نہیں، بلکہ ہر لفظ کو اس کے ابتدائی لغوی معنی میں لوں گا تو علمی ترقی کا خاتمہ ہو جائے گا اور کتب خانوں میں جمع شدہ کتابیں عملاً نا قابل فہم
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues